.

دو ہفتوں کے دوران شام میں حزب اللہ کے 100 جنگجو ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں صدر بشارالاسد کی وفاداری میں پچھلے چار سال سے مسلسل باغیوں کے خلاف جنگ لڑنے والی لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کو بھی سرکاری فوج کی طرح بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پچھلے دو ہفتوں میں حزب اللہ کے ایک سو جنگجو مارے گئے ہیں جس کے بعد شام میں تنظیم کے ہلاک ہونے والے کل ارکان کی تعداد 2000 سے تجاوز کرگئی ہے۔

اسرائیل کے ایک عبرانی اخبار "یدیعوت احرونوت" نے شامی فوج کے ایک سینیر افسر کے حوالے سے بتایا ہے کہ حالیہ دو ہفتوں میں لبنان اور شام کی سرحد پر واقع القلمون قصبے میں النصرہ فرنٹ اور دوسرے شامی گروپوں کے خلاف لڑائی میں حزب اللہ کے ایک سو جنگجو ہلاک ہوئے۔

العربیہ ٹی وی کے مطابق فوجی عہدیدار کے عہدیدار کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کی جانب سے بار بار شامی صدر بشارالاسد کی حمایت میں لڑنے کے لیے عوام کو ترغیب دینے کے بیانات دراصل مقتولین کے اہل خانہ کی جانب سے سامنے آنے والے دبائو کو کم کرنے کی کوشش ہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ شام میں حزب اللہ اور اس کے حامی جنگجوئوں کو اس وقت اسی حکمت عملی کا سامنا ہے جس کا مظاہرہ حزب اللہ اسرائیلی فوج کے ساتھ مختلف لڑائیوں میں کرچکی ہے۔ شامی اپوزیشن کے گروپ اچانک حملے بند کردیتے ہیں اور پھرکلاسیکی انداز میں دوبارہ کارروائیاں کرکے حزب اللہ کو غیرمعمولی جانی نقصان سے دوچار کرتے ہیں۔

اسرائیلی اخبار کے مطابق شامی فوجی افسر کا کہنا ہے کہ عراق اور ایران سے ہزاروں کی تعداد میں جنگجو شام پہنچ رہے ہیں جہاں وہ شامی فوج کے ساتھ مل کر باغیوں کی سرکوبی میں مصروف عمل ہیں۔

اسرائیل میں بعض دوسرے ذرائع ابلاغ میں آنے والی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ شام میں کمزور ہوتی اسد رجیم کے نتیجے میں حزب اللہ خود کو سخت دبائو میں محسوس کررہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حزب اللہ نے شام میں اپنے جنگجوئوں کی تعداد بڑھا کر آٹھ ہزار تک پہنچا دی ہے۔