.

اسرائیلی فوج کا غزہ کی پٹی پر فضائی حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی پر اتوار کی صبح ایک فضائی حملہ کیا ہے اور اس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے یہ حملہ فلسطینی علاقے سے جنوبی اسرائیل کی جانب راکٹ فائر کیے جانے کے بعد کیا ہے۔

گذشتہ دو ہفتوں کے دوران غزہ سے اسرائیل کے جنوبی علاقوں کی جانب یہ تیسرا راکٹ حملہ تھا۔تاہم اس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا جبکہ اس کے ردعمل میں اسرائیلی طیارے کی بمباری سے فلسطینیوں کے جانی نقصان کی اطلاع ہے۔فوری طور پر حملے میں کسی فلسطینی کے شہید یا زخمی ہونے کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

درایں اثناء انتہا پسند اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے غزہ سے حالیہ راکٹ حملوں پر کوئی بیان جاری نہ کرنے پر عالمی برادری کی مذمت کردی ہے اور کہا ہے کہ اس کی جانب سے ابھی تک کوئی مذمتی لفظ نہیں سنا گیا ہے۔انھوں نے راکٹ حملوں کے جواب میں فلسطینیوں کے خلاف سخت کارروائی کی دھمکی دی ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ دنیا کی ''منافقانہ نیند'' اسرائیل کو ردعمل سے نہیں روکے گی۔

اسرائیل نے اس تازہ راکٹ حملے کے بعد غزہ کی پٹی کے ساتھ اپنی تمام بارڈر کراسنگز کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔دولت اسلامیہ عراق وشام (داعش) کی حمایت کرنے والے ایک سلفی گروپ نے ہفتے کے روز اسرائیل کی جانب راکٹ فائر کرنے کی ذمے داری قبول کی تھی۔اس گروپ کی غزہ کی حکمراں فلسطینی جماعت حماس کے ساتھ محاذ آرائی جاری ہے اور ان کے درمیان متعدد مرتبہ خونریز تصادم ہوچکا ہے۔

اسرائیل کے لڑاکا طیاروں نے گذشتہ جمعرات کو بھی غزہ کی پٹی میں فلسطینی مزاحمت کاروں کے چار اہداف پر بمباری کی تھی۔اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا تھا کہ تین جون کو غزہ کی پٹی سے اسرائیل کے جنوبی شہر عسقلان اور ایک قصبے نیتیووٹ کی جانب دو راکٹ فائر کیے گئے تھے۔یہ راکٹ کھلے میدان میں گرے تھے اور ان سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

صہیونی ریاست نے اپنی عمومی پالیسی کے عین مطابق حماس پر ان راکٹوں حملوں کا الزام عاید کیا تھا حالانکہ یہ راکٹ اس کی متحارب تنظیم نے فائر کیے تھے۔حماس کے تحت سکیورٹی فورسز نے گذشتہ منگل کو غزہ شہر میں لڑائی کے دوران ایک سلفی لیڈر کو گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔