.

شامی فوج نے داعش کا الحسکہ پر حملہ پسپا کردیا

شہر کے نواح میں 30 مئی سے جاری جھڑپوں میں 70 فوجیوں سمیت 119 ہلاکتیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کی سرکاری فوج نے سخت گیر داعش سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کو شدید لڑائی کے بعد شمال مشرقی شہر الحسکہ سے پسپا ہونے پر مجبور کردیا ہے۔

داعش کے جنگجوؤں نے الحسکہ میں داخل ہونے کے لیے اتوار کو ایک بھرپور حملہ کیا تھا لیکن ان کی یہ کوشش ناکام رہی ہے۔برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی ہے کہ شامی فوج شدید لڑائی کے بعد داعش کے جنگجوؤں کو پسپا کرنے میں کامیاب رہی ہے۔

داعش کے جنگجوؤں نے کرد اکثریتی شہر الحسکہ پر قبضے کے لیے جمعرات کو یلغار کی تھی۔وہ شہر میں داخل ہونے کے لیے جنوبی دروازے کے نزدیک پہنچ چکے تھے لیکن انھیں اسدی فوج نے اب اتوار کو دو کلومیٹر پیچھے دھکیل دیا ہے۔

شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا نے بھی شہر کے نواح میں لڑائی کی اطلاع دی ہے اور کہا ہے کہ فوج نے داعش کے زیر قبضہ متعدد پوزیشنوں کا دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ان ٹھکانوں پر حالیہ دنوں کے دوران داعش نے قبضہ کر لیا تھا۔ آبزرویٹری کی اطلاع کے مطابق اب الحسکہ جیل کے نزدیک علاقے میں سرکاری فوج اور داعش کے جنگجوؤں کے درمیان لڑائی ہورہی ہے۔

داعش کے الحسکہ پر 30 مئی کو حملے کے آغاز کے بعد سے ایک سو انیس ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔ان میں اکہتر سرکاری فوجی ہیں اور اڑتالیس داعش کے جنگجو ہیں۔ان میں گیارہ خودکش بمبار تھے۔

واضح رہے کہ کرد فورسز اور اسدی فورسز نے الحسکہ شہر کو انتظامی طور پر دو حصوں میں تقسیم کررکھا ہےاور ان کا اپنے اپنے حصے پر کنٹرول ہے۔شام میں آباد کردوں نے صدر بشارالاسد کے خلاف گذشتہ چار سال سے جاری عوامی مزاحمتی تحریک کے آغاز ہی سے ایک محتاط موف اپنا رکھا ہے۔وہ صدر بشارالاسد کی حمایت میں لڑرہے ہیں اور نہ باغی جنگجو گروپوں کے حامی ہیں۔

داعش کے جنگجوؤں کی صوبے الحسکہ کے دوسرے علاقوں میں کرد فورسز کے ساتھ ماضی میں جھڑپیں ہوچکی ہیں۔اس سے پہلے ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع کرد اکثریتی شہر کوبانی میں بھی کرد فورسز اور داعش کے جنگجوؤں کے درمیان خونریز لڑائی ہوئی تھی اور داعش کو بھاری جانی نقصان کے بعد اس شہر سے پسپا ہونا پڑا تھا۔