.

قاہرہ کانفرنس:شامی حزب اختلاف کا نئے اتحاد کے قیام پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی حزب اختلاف کے مختلف دھڑوں کا آج قاہرہ میں اجلاس ہورہا ہے جس میں وہ مغرب کے حمایت یافتہ جلا وطن سیاست دانوں کے اتحاد کے متبادل کے طور پر ایک نئے اتحاد کے قیام پر غور کررہے ہیں۔

اس دو روزہ کانفرس میں شامی حزب اختلاف کے مسلح اور سیاسی دھڑوں سے تعلق رکھنے والی دو سو سے زیادہ شخصیات شرکت کررہی ہیں۔اس کا بڑا مقصد ملک میں گذشتہ چار سال سے جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے نقشہ راہ وضع کرنا ہے۔

حزب اختلاف کے دھڑے اب ایک نیا اتحاد تشکیل دینے پر بات چیت کررہے ہیں۔یہ جلاوطن شامی قومی اتحاد کی جگہ قائم کیا جارہا ہے۔اس اتحاد کو مغربی اور عربی ممالک تسلیم کرتے ہیں لیکن اس اتحاد میں شامل لیڈروں کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ ان کا شام میں برسرزمین حقائق اور صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز کے خلاف لڑنے والے مسلح باغی دھڑوں سے کوئی تعلق واسطہ نہیں ہے۔

قاہرہ اجلاس کے منتظمین میں سے ایک شامی حزب اختلاف کی معروف شخصیت ہیثم منا نے گذشتہ ماہ ایک بیان میں کہا تھا کہ ''عرب ،کرد اور تمام عقیدوں کے پیروکار اس اجلاس میں شرکت کریں گے۔وہ ایک سیاسی کمیٹی کا انتخاب کریں گے جو ایک لائحہ عمل وضع کرے گی اور پالیسی چارٹر تیار کرے گی''۔

انھوں نے بتایا کہ ''یہ نیا اتحاد شامی قومی حزب اختلاف کہلائے گا اور یہ قومی اتحاد سے یکسر مختلف ہوگا۔یہ شامیوں ہی کا اجلاس ہوگا،اس کے لیے تمام رقوم ہم نے مہیا کی ہیں اور کسی غیر کا ہم پر کوئی کنٹرول نہیں ہے اور نہ کسی کا پیسہ صرف ہوگا''۔

مصر کی وزارت داخلہ نے شامی حزب اختلاف کی شخصیات کے اجتماع کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد شام میں جاری بحران کے خاتمے کے لیے ایک وسیع تر وژن کو سامنے لانا ہے۔

ہیثم منا کا کہنا تھا کہ مصر صرف کانفرنس کی میزبانی کرے گا اور وہ اس میں کوئی مداخلت نہیں کرے گا۔انھوں نے کہا کہ یہ اتحاد صدر بشارالاسد کی حکومت کے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔تاہم یہ بات چیت جنیوا اعلامیے کی بنیاد پر ہوگی۔

نئے گروپ کے ارکان شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹیفن ڈی مستورا کے ساتھ بھی کانفرنس کے بعد ملاقات کریں گے۔