.

بھوک ہڑتالی قیدی کو کچھ ہوا تو اسرائیل ذمے دار ہو گا: فلسطین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی حکومت نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اگر بھوک ہڑتال کرنے والے قیدی خضر عدنان کو کچھ ہوا تو وہ اس کا تمام تر ذمے دار ہوگا۔

خضر عدنان نے گذشتہ چھتیس روز سے اسرائیلی جیل میں ناروا سلوک کے خلاف بھوک ہڑتال کررکھی ہے جس کی وجہ سے ان کی حالت بگڑ چکی ہے۔فلسطینی حکومت نے منگل کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ''اسرائیل انتظامی حراست کے تحت پس دیوار زنداں کیے گئے قیدیوں کی زندگیوں کا ذمے دار ہے''۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ عدنان کے موت کے منھ میں جانے کا اندیشہ ہے۔انھیں چند روز قبل اسرائیلی حکام نے جیل سے اسپتال منتقل کیا تھا لیکن انھوں نے وہاں بھی حکام کے ناروا سلوک کے خلاف بھوک ہڑتال جاری رکھی ہوئی ہے۔

ان کے علاوہ دو اور قیدیوں محمد راشدان اور مقبوضہ مشرقی بیت المقدس سے تعلق رکھنے والے ایمن الشربتی نے بھی بھوک ہڑتال کررکھی ہے۔اول الذکر نے خاندان کو ملنے کی اجازت نہ دینے اور موخرالذکر نے قید تنہائی میں ڈالنے کے خلاف کھانا پینا چھوڑ رکھا ہے۔

واضح رہے کہ برطانوی انتداب کے دور (1920ء سے 1948ء) سے تعلق رکھنے والے ایک متنازعہ قانون کے تحت اسرائیلی حکام فلسطینی قیدیوں کو غیر معینہ مدت کے لیے جیل میں ڈال سکتے ہیں اور اس مدت میں عدالتی حکم کے تحت ہر چھے ماہ کے بعد توسیع کی جا سکتی ہے۔