.

فلسطینی اسپیکر کی اسرائیلی جیل سے ایک سال کے بعد رہائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے فلسطینی پارلیمان کے اسپیکر عزیز الدویک کو قریباً ایک سال تک زیر حراست رکھنے کے بعد جیل سے رہا کردیا ہے۔

اسرائیلی فورسز نے گذشتہ سال غرب اردن میں تین یہودی نوجوانوں کے اغوا کے بعد کریک ڈاؤن کے دوران فلسطینی قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر کو 16 جون 2014ء کو گرفتار کر لیا تھا۔
.
اسرائیلی فورسز نے تب تیس جون تک ان تینوں اسرائیلی نوجوانوں کی تلاش جاری رکھی تھی اور کریک ڈاؤن میں سیکڑوں فلسطینیوں کو گرفتار کر لیا تھا۔ان میں زیادہ تر حماس کا کارکنان تھے۔اس دوران ان تینوں نوجوانوں کی لاشیں ملی تھیں۔انھیں فلسطینی مزاحمت کاروں نے مبینہ طور پر اغوا کے بعد قتل کر دیا تھا۔

غربِ اردن میں اس بڑے کریک ڈاؤن کے ردعمل میں غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے فلسطینی مزاحمت کاروں نے اسرائیل کے جنوبی علاقوں کی جانب راکٹ حملے شروع کردیے تھے۔اسرائیلی فوج نے جواب میں غزہ کی پٹی پر تباہ کن بمباری شروع کردی تھی اور اس پچاس روزہ جنگ کے دوران بائیس سو سے زیادہ فلسطینی شہید ہوگئے تھے۔

رام اللہ سے تعلق رکھنے والے فلسطینی قیدی کلب کے مطابق اسرائیلی فورسز نے فلسطینی قانون ساز اسمبلی کے ایک سو تیس مِیں سے بارہ کو گرفتار کر لیا تھا۔ان میں سے عزیزالدویک کو رہا کردیا گیا ہے جبکہ باقی ارکان ابھی تک اسرائیلی جیل میں قید ہیں۔

واضح رہے کہ فلسطینی قانون ساز کونسل کا سنہ 2007ء کے بعد سے کوئی اجلاس منعقد نہیں ہوسکا ہے۔تب حماس اور فلسطینی صدر محمود عباس کے درمیان اختیارات کی تقسیم پر محاذ آرائی شروع ہوگئی تھی اور فلسطینی صدر نے وزیراعظم اسماعیل ہنئیہ کی قیادت میں حکومت کو چلتا کیا تھا۔اس کے بعد حماس نے غزہ کی پٹی میں اپنی خود مختار حکومت قائم کرلی تھی اور وہاں سے فتح تحریک کے حامیوں کو بزوربازو غرب اردن کی جانب بے دخل کردیا تھا۔