.

غربِ اردن :اسرائیلی فورسز کی فائرنگ سے فلسطینی شہید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فورسز نے غرب اردن کے شمال میں واقع شہر جنین کے نزدیک ایک مہاجر کیمپ میں کارروائی کے دوران ایک فلسطینی نوجوان کو گولی مار کر شہید کردیا ہے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق اسرائیل کی بارڈر سکیورٹی فورسز نے غرب اردن کے شہر جنین کے نزدیک واقع مہاجر کیمپ میں فلسطینیوں کو گرفتار کرنے کے لیے دھاوا بولا تھا۔اس دوران انھوں نے سیدھی فائرنگ کردی جس سے ایک تئیس سالہ نوجوان عزالدین غورا شہید ہوگیا ہے۔

عزالدین کو ایک گولی بازو اور ایک سینے میں لگی تھی۔اس کو اسپتال لے جایا جارہا تھا لیکن وہ راستے ہی میں دم توڑ گیا۔اسرائیلی پولیس نے اس واقعے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ بارڈر پولیس فورس مہاجر کیمپ میں گرفتاریوں کے لیے گئی تھی اور اس نے ایک مشتبہ شخص پر فائرنگ کی تھی۔

غزہ کی حکمراں جماعت حماس نے آن لائن جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ شہید فلسطینی نوجوان اس کا کارکن تھا۔بیان میں فلسطینی اتھارٹی سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی تعاون ختم کردے۔

بیان میں 1993ء میں طے شدہ اوسلو معاہدے کا حوالہ دیا گیا ہے جس کے تحت فلسطینی اتھارٹی کے تحت فورسز اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی تعاون کرتی ہیں اور بالعموم یہ تعاون فلسطینی مزاحمت کاروں کی گرفتاریوں کے لیے ہوتا ہے۔

حماس کے ایک مقامی ذریعے نے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ شہید غورا جنین میں تحریک مزاحمت کا رکن تھا لیکن اس ذریعے نے اس کی کسی عسکری سرگرمی میں شرکت سے لاعلمی ظاہر کی ہے۔حماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈز نے بھی شہید کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے لیکن اس کو اپنا کارکن ظاہر نہیں کیا ہے۔

واضح رہے کہ جنین میں واقع مہاجر کیمپ میں اسرائیلی فوجی آئے دن فلسطینیوں کے خلاف کارروائیاں کرتے رہتے ہیں اور ان کی وہاں کے مکینوں سے جھڑپیں بھی ہوتی رہتی ہیں۔اسرائیلی فورسز نے جون 2014ء میں ایک بڑے کریک ڈاؤن کے دوران حماس کے بیسیوں کارکنان کو گرفتار کر لیا تھا۔