.

صدام کے نائب کا جسد خاکی عراق سے اردن منتقل

میت کی پراسرار گم شدگی کے بارے میں متضاد اطلاعات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے سابق نائب صدر اور مصلوب صدام حسین کے دست راست طارق عزیز کے گذشتہ دنوں عراق کے ایک فوجی اسپتال میں انتقال کے بعد ان کی میت آخری رسومات کی ادائی کے لیے اردن منتقل کردی گئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب مقامی وقت کے مطابق 10 بجے ایک خصوصی طیارے کے ذریعے طارق عزیز کی میت بغداد سے عمان کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پہنچائی گئی۔

اردنی حکومت کے ایک ذریعے کے مطابق طارق عزیز کی میت عمان کے ایک اسپتال میں منتقل کی گئی ہے جہاں آج ہفتےکے روز الناصریہ چرچ میں آخری رسومات کی ادائی کے بعد مادبا گورنری میں سپرد خاک کیا جائے گا۔

قبل ازیں اردنی شاہی ایئرلائن کے ذریعے نے "العربیہ" ٹی وی کو بتایا تھا کہ طارق عزیز کی میت جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب عراق سے اردن لائی جائے گی۔ اس سے قبل اردن میں متعین عراقی سفیر جواد ہادی عباس نے بھی طارق عزیز کی میت کی عمان منتقلی کی خبروں کی تصدیق کی تھی تاہم انہوں نے اس حوالے سے کوئی خاص وقت بتانے سے گریزکیا تھا۔

اردن اور عراق کے ذرائع ابلاغ بھی طارق عزیز کی میت کی عمان منتقلی کے بارے میں خبریں دیتے رہے ہیں تاہم میت کب منتقل کی جائے گی اس کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں تھی۔ میڈیا رپورٹس میں توقع ظاہر کی گئی تھی کہ طارق عزیز کی میت جمعرات کے روز اردن منتقل کی جائے گی۔

عراقی سفیرنے "العربیہ" کو ٹیلیفون پربتایا تھا کہ طارق عزیز کی میت محفوظ ہے اور جلد ہی اسے اردن میں موجود اس کے اہل خانہ کے حوالے کیا جائے گا جہاں دوسرے ملک ہی میں انہیں سپرد خاک کیا جائے گا۔

متضاد اطلاعات

عراق کے سابق نائب صدر اور جیل میں سزائے موت کا سامنا کرنے والے طارق عزیز پانچ جون 2015ء کو بغداد کے ایک اسپتال میں انتقال کرگئے تھے۔ ان کی میت کے اردن منتقلی کے بارے میں مضاد اطلاعات بھی آتی رہی ہیں۔ گذشتہ جمعرات سے طارق عزیز کے جسد خاکی کے بارے میں کسی قسم کی معلومات سامنے نہیں آ رہی تھیں۔ تاہم عمان میں موجود ان کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ وہ طارق عزیز کی میت کے بارےمیں کچھ نہیں جانتے۔ اہل خانہ کی جانب سے العربیہ کو یہ تصدیق کی گئی تھی کہ طارق عزیز کی میت اردن منتقل نہیں کی گئی۔

آنجہانی طارق عزیز کے بڑے صاحبزادے زیاد عزیز نے"العربیہ" سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں اور پورے خاندان کو ان کے والد کی میت کے حوالے سے لاعلمی میں رکھا جا رہا ہے۔ جمعرات کے بعد سے ان کے والد کی میت کے بارے میں کوئی معلومات نہیں مل رہیں کہ اسے کہاں رکھا گیا ہے۔ بغداد کے ہوائی اڈے پر کام کرنے والے ایک شخص کا کہنا تھا کہ طارق عزیز کی میت ہوائی جہاز میں نہیں ب لکہ ایک ٹرک میں رکھی گئی ہے۔

زیاد کا کہنا تھا کہ ان کے والد کے الناصریہ اسپتال میں انتقال کے بعد بغداد وزارت صحت اور انصاف نے ضروری قانونی کارروائی مکمل کرلی ہے۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ میت کو جلد ہی ورثاء کے حوالے کیا جائے گا۔

بیٹے نے بتایا کہ اس کی والدہ نے بغداد میں عراقی حکام کی موجودگی میں ان کے والد کی میت وصول کرنے کے بعد ان کی شناخت کی تصدیق کی تھی۔ اس کے بعد میت کو ایک ٹرک میں رکھا گیا تھا جسے جمعرات کے روز ممکنہ طورپرشاہی ایئرلائن کے ایک جہازمیں رکھا گیا ہے۔ تاہم اہل خانہ کی جانب سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آسکی ہیں۔

پراسرارگم شدگی

خبر رساں ایجنسی"ایسوسی ایٹڈ پریس" نے بھی طارق عزیز کے بیٹے کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں اس کا کہنا ہے کہ ان کے والد کی میت جمعرات کے روز اچانک غائب کردی گئی تھی مگر بعد ازاں اسے دوبارہ منظرعام پرلایا گیا ہے۔

طارق عزیز کے اہل خانہ کے وکیل کا کہنا ہے کہ میت جمعرات کے روز اردنی حکام کی تحویل میں پہنچا دی گئی تھی جہاں اسے غائب کردیا گیا تاہم خاندان کے دبائو کے بعد اسے منظرعام پرلایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نامعلوم افراد نے طارق عزیز کی میت کو غائب کیا تھا تاہم اس کی مزیدتفصیلات کے بارے میں پتا نہیں چل سکا ہے کہ آیا میت کو غائب کیوں کیا گیا تھا۔

روس کے عربی زبان میں نشریات پیش کرنے والے RT ٹیلی ویژن چینل نے اپنی ویب سائیٹ پر بتایا تھا کہ طارق عزیز کی میت جمعہ کو عمان منتقل کردی گئی تھی تاہم عمان میں موجود طارق عزیز کی ایک صاحبزادی زینب کا کہنا ہے کہ ان کے والد کی میت عراق ہی میں پراسرار طورپر غائب کردی گئی تھی۔ دوسری جانب اردنی ایئرلائن کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ طارق عزیز کی میت کی وصولی کے لیے ایک خصوصی طیارہ جمعرات کے روز بغداد بھیجا گیا تھا۔

ایسوسی ایٹیڈ پریس کے مطابق عراقی حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق طارق عزیز کی موت عارضہ قلب کے باعث ہوئی ہے۔ وفات کے بعد تدفین کے لیے میت کو عمان میں جلا وطنی کی زندگی گذارنے والے ان کے ورثاء کے حوالے کیا جائے گا۔