.

سات اسرائیلی فوجیوں کا نہتے فلسطینی پر وحشیانہ تشدد

صہیونی فوج نے ویڈیو منظرعام پر آنے کے بعد واقعہ کی تحقیقات شروع کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مقبوضہ مغربی کنارے میں سات اسرائیلی فوجیوں نے ایک غیر مسلح فلسطینی کو تشدد کو نشانہ بنایا ہے۔اس واقعے کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد ان فوجیوں کے خلاف انضباطی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔

اس فوٹیج میں اسرائیلی فوجی نہتے فلسطینی کو وحشیانہ طریقے سے تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں۔وہ اس کی گردن کی پشت پر بندوق کے بٹ مار رہے ہیں،مکے اور ٹھڈے مار رہے ہیں۔اس طرح وہ تشدد سے فلسطینی کو ادھ موا کر دیتے ہیں اور اس کے بعد اچھل کود کرتے ہوئے خوشی کا اظہار بھی کرتے ہیں۔

فلسطینی اس ویڈیو کے منظرعام پر آنے کے بعد سے اس کی خوب تشہیر کررہے ہیں۔اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سات فوجیوں کے خلاف گذشتہ جمعہ کو فلسطینی اتھارٹی کے ہیڈکوارٹرز رام اللہ کے نزدیک واقع الجازون مہاجر کیمپ میں فلسطینی پر حملہ کرنے کے الزام میں محکمانہ انضباطی کارروائی کے لیے تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ ''اس واقعے میں ملوّث فوجیوں کو رجمنٹ کمانڈر کے سامنے پیش کیا جائے گا،جہاں وہ واقعے سے متعلق وضاحت پیش کریں گے اور اگر ضروری ہوا تو ان کے خلاف اہم اقدامات کیے جائیں گے''۔

ترجمان کے بہ قول ابتدائی تحقیقات سے یہ تاثر ابھرا ہے کہ ان کا کردار اسرائیلی دفاعی افواج کے مطابق نہیں تھا۔صہیونی فوج نے یہ بھی کہا ہے کہ فوجی مہاجر کیمپ میں احتجاجی مظاہرہ کرنے والے فلسطینیوں کو منتشر کرنے کے لیے وہاں گئے تھے۔

لیکن واضح رہے کہ مغربی کنارے پر گذشتہ قریباً پچاس سال سے قابض اسرائیلی فوج پُرامن احتجاجی مظاہرے کرنے والے فلسطینیوں کے خلاف بھی طاقت کا بے مہابا استعمال کرتی ہے اور فلسطینی مظاہرین کے پتھراؤ کا جواب گولیوں سے دیا جاتا ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے اس سال کے آغاز سے اب تک گیارہ فلسطینیوں کو تشدد یا پھر فائرنگ سے شہید کردیا ہے۔