.

فلسطین: غزہ جنگ سے متعلق اسرائیلی رپورٹ مسترد

شہریوں اور شہری اہداف کو جان بوجھ کر نشانہ نہیں بنایا گیا تھا:اسرائیلی دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی حکومت نے غزہ میں گذشتہ سال موسم گرما میں صہیونی فوج کی مسلط کردہ جنگ سے متعلق اسرائیل کی سرکاری تحقیقاتی رپورٹ مسترد کردی ہے۔اس میں اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں فلسطینی شہریوں اور شہری اہداف کو جان بوجھ کر حملوں میں نشانہ نہیں بنایا گیا تھا۔

مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں فلسطینی حکومت کے ترجمان ایہاب بسیسو نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''اسرائیل کا شہریوں کو ہدف بنانے کی حقیقت سے انکار کا فیصلہ دراصل اس نے غزہ کی پٹی میں جو کچھ کیا ہے،اسی کی توسیع ہے''۔

انھوں نے اسرائیلی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''فلسطینی صرف کسی بین الاقوامی تحقیقات کے حاصلات ہی کو تسلیم کریں گے اور اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل 29 جون کو ایسی ہی اپنی تحقیقاتی رپورٹ شائع کررہی ہے''۔

اسرائیل کی ایک بین الوزارتی کمیٹی کی تیار کردہ رپورٹ اتوار کو جاری کی گئی ہے اور اس میں اسرائیلی فوج کی غزہ کی پٹی پر مسلط کردہ جنگ کو قانونی اور جائز قرار دیا گیا ہے۔اس میں اس بات پر اصرار کیا گیا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے جان بوجھ کر شہریوں یا شہری اہداف کو نشانہ نہیں بنایا تھا۔فلسطینیوں نے اس رپورٹ کے ان حاصلات کو یکسر مسترد کردیا ہے۔

اسرائیل کی وزارت خارجہ اور انصاف نے مشترکہ طور پر غزہ جنگ سے متعلق یہ رپورٹ تیار کی ہے اور اس میں فوج اور قومی سلامتی کونسل کا نقطہ نظر بھی شامل ہے۔اس کو اقوام متحدہ کی غزہ جنگ کے بارے میں تحقیقاتی رپورٹ کے منظرعام پر آنے سے صرف دو ہفتے قبل جاری کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی مسلط کردہ پچاس روزہ جنگ کے دوران دو ہزار دو سو سے زیادہ فلسطینی شہید ہوگئے تھے اور ان میں زیادہ تر عام شہری تھے۔فلسطینی مزاحمت کاروں کے حملوں یا ان کے ساتھ جھڑپوں میں تہتر اسرائیلی ہلاک ہوئے تھے۔ان میں سڑسٹھ فوجی اور چھے عام شہری تھے۔

اسرائیلی رپورٹ دو سو سے زیادہ صفحات پر مشتمل ہے۔اس میں مصنفین نے جنگ کا سبب بننے والے حالات بیان کیے ہیں اور فوج کی جانب سے شہریوں کو نقصان پہنچنے سے بچانے کے لیے کوششوں پر روشنی ڈالی ہے۔اس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ''دنیا کو جہاں یہ نظر آرہا ہے کہ غزہ میں شہری اہداف کو نشانہ بنایا گیا تھا تو دراصل وہ فوجی اہداف تھے اور ان پر درست طور پر حملے کیے گئے تھے''۔