.

ڈاکٹر مرسی کو جیل توڑنے کے مقدمے میں پھانسی کا حکم

اخوان کے مرشد عام محمد بدیع سمیت سرکردہ قائدین کو بھی سزائے موت سنا دی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی ایک عدالت نے برطرف صدر ڈاکٹر محمد مرسی کو سنہ 2011ء میں ایک جیل توڑنے کے مقدمے میں قصور وار قرار دے کر سزائے موت کا حکم دیا ہے۔

قبل ازیں مئی میں عدالت نے ڈاکٹر محمد مرسی کو سزائے موت کا حکم دیا تھا اور اس کی توثیق کے لیے کیس مفتی اعظم مصر شوقی علام کو بھیجا تھا۔عدالت نے اسی مقدمے میں اخوان المسلمون کے مرشدعام محمد بدیع کو بھی سزائے موت کا حکم دیا ہے۔تاہم وہ عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرسکتے ہیں۔

عدالت نے اخوان المسلمون کے نائب مرشدعام خیرت الشاطر ،سینیر رہ نماؤں سعد الکتاتنی، محمد البلتاجی اور محمد عبدالعاطی کو بھی سزائے موت سنائی ہے۔اس مقدمے میں تیرہ دیگر مدعاعلیہان کو ان کی عدم موجودگی میں موت کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔

اسی عدالت نے ڈاکٹر مرسی کو اس سے پہلے غیرملکیوں کے ساتھ مل کر مصر کے خلاف سازش کے الزام میں پچیس سال قید کا حکم دیا تھا۔اسی مقدمے میں مرشد عام محمد بدیع ،اخوان المسلمون کے ایک سینیر رہ نما محمد الکتاتنی اور اعصام العریان سمیت سترہ افراد کو عمر قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔

عدالت نے 16 مئی کو ڈاکٹر محمد مرسی اور ایک سو پانچ دیگر مدعاعلیہان کو سنہ 2011ء کے اوائل میں سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کے دوران جیل توڑنے اور پولیس پر حملوں کے الزامات میں قصور وار دے کرسزائے موت سنائی تھی۔واضح رہے کہ حسنی مبارک کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کے وقت ڈاکٹر محمد مرسی اور اخوان کے دیگر سینیر رہ نما جیلوں میں قید تھے اور انھیں جیلوں پر حملے کرکے رہا کرا لیا گیا تھا۔

عدالت نے اس فیصلے کو حتمی توثیق کے لیے مفتی اعظم شوقی علام کے پاس بھیجا تھا۔ان کی جانب سے توثیق کے بعد اب حتمی فیصلہ سنایا ہے۔ مصری عدالتوں کے ان فیصلوں کے ردعمل میں اخوان المسلمون کے ایک سینیر رہ نما یحییٰ حامد نے کہا ہے کہ مصر میں ان کی جماعت کے خلاف چلائے جانے والے مقدمات کے ٹرائیل عالمی معیارات سے کہیں کم تر ہیں۔انھوں نے استنبول میں ایک نیوزکانفرنس میں کہا کہ اس فیصلے سے مصر میں جمہوریت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی گئی ہے۔