.

موصل کو صوبہ کردستان میں ضم کرنے کی سازش؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے شورش زدہ موصل شہرمیں جہاں ایک طرف دولت اسلامی"داعش" کے خلاف بڑے آپریشن کی تیاریاں جاری ہیں وہیں سیاسی حلقوں کی جانب سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ نیم خود مختارصوبہ کردستان کی فوج "البیشمرکہ" موصل کو کردستان میں ضم کرنے کی کوششیں کررہی ہے۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عراق کےسیاسی حلقوں میں موصل کے مستقبل کے حوالے سے سخت بے چینی پائی جا رہی ہے کیونکہ صوبہ کردستان کی فوج البیشمرکہ پچھلے ایک برس سے "داعش" کے خلاف سرگرم عمل ہے اورشمالی عراق کے کئی محاذ سے داعشی جنگجوئوں کو شکست دے چکی ہے۔

مستقبل قریب میں موصل میں "داعش" کے خلاف عراقی فوج کے ممکنہ آپریشن میں البیشمرکہ کے کردار کی اہمیت بھی تسلیم کی جا رہی ہے۔ سیاست دان یہ خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ عراقی فوج کی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے البیشمرکہ موصل پرمکمل کنٹرول حاصل کرسکتی ہے۔ ایسی میں یہ اہم شہرصوبہ کردستان میں جا سکتا ہے۔

عراقی پارلیمنٹ کی دفاع و قومی سلامتی کمیٹی کے رکن اسکندر وتوت نے کھلے الفاظ میں الزام عاید کیا ہے کہ البیشمرکہ موصل کو داعش سے چھڑانے کے بدلے میں شہر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ مستقبل میں اس شہرکو صوبہ کردستان میں شامل کیا جا سکے۔

خیال رہے کہ پچھلے سال دولت اسلامی کےجنگجوئوں نے شمالی عراق کے کرد اکثریتی شہروں کی طرف پیش قدمی کی تو اسے عراقی فوج نےنہیں بلکہ کردستان کی البیشمرکہ نے نہ صرف روکا بلکہ سنجار اور کئی دوسرے علاقوں سے داعش کو نکال باہر کیا۔

مبصرین کے خیال میں کردوں کے لیے موصل شہربھی دفاعی اعتبار سے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ یہ شہرنینویٰ گورنری کی شہ رگ سمجھی جاتی ہے۔ دریائے دجلہ کے کنارے پر واقع ہونے کے ساتھ ساتھ موصل کی زرعی اہمیت بھی عراق کے کسی دوسرے شہر سے زیادہ ہے۔ نیز یہ شہر تیل کے وسیع ذخائر سے بھی مالا مال ہے۔

موصل کے مشرقی علاقے میں کردوں کی اکثریت ہے۔ جہاں دوسری طرف تل عفر اور سنجار جیسے کرد اکثریتی شہر بھی اس سے ملتے ہیں۔ اس سے موصل کی کردستان کے لیے اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔