.

''اسرائیل جنگی جرائم کا مرتکب نہیں ہوتا'':نیتن یاہو کا دعویٰ

حماس کی جانب سے اقوام متحدہ کی تحقیقاتی رپورٹ کا خیرمقدم اور تنقید بھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انتہا پسند صہیونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ ''اسرائیل جنگی جرائم کا مرتکب نہیں ہوتا''۔انھوں نے یہ بیان اقوام متحدہ کی غزہ جنگ کی تحقیقات پر مبنی رپورٹ منظرعام پر آنے کے بعد جاری کیا ہے۔اس رپورٹ میں صہیونی فوج اور حماس دونوں پر الزام عاید کیا گیا ہے کہ انھوں نے گذشتہ سال موسم گرما میں جنگ کے دوران جنگی جرائم کا ارتکاب کیا تھا۔

نیتن یاہو نے بیان میں یہ جواز پیش کیا ہے کہ ''اسرائیل ایک دہشت گرد تنظیم کے مقابلے میں اپنا دفاع کرتا ہے۔یہ تنظیم اسرائیل کی تباہی چاہتی ہے اور اس نے جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے''۔بیان میں غزہ کی پٹی کی حکمراں اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) کی جانب اشارہ ہے۔صہیونی وزیراعظم نے حماس کے ڈھانچے کو تباہ کرنے کے لیے ہی گذشتہ سال جولائی اور اگست میں غزہ پر تباہ کن جنگ مسلط کی تھی۔

دوسری جانب حماس نے اقوام متحدہ کی رپورٹ میں جنگی جرائم کے ارتکاب پر اسرائیل کی مذمت کا خیرمقدم کیا ہے۔حماس کے ترجمان فوزی برہوم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کی جماعت قابض صہیونیت کے جنگی جرائم کی اقوام متحدہ کی رپورٹ میں مذمت کو سراہتی ہے۔

لیکن اس کے ساتھ حماس نے رپورٹ میں اپنے مزاحمت کاروں کو جنگی جرائم کا مرتکب قرار دینے کی بھی مذمت کی ہے۔حماس کے ایک سینیر عہدے دار غازی حماد نے کہا ہے کہ ان کی جماعت کی جانب سے اسرائیلی فوج کی تنصیبات پر راکٹ اور مارٹر حملے کیے گئے تھے اور شہری ان کا ہدف نہیں تھے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل اور فلسطینی مزاحمت کار گروپوں دونوں ہی نے جنگی جرائم کا ارتکاب کیا تھا۔رپورٹ میں اسرائیل کی جانب سے فضائی قوت کے بے مہابا استعمال کی بھی مذمت کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے اس اکاون روزہ جنگ کے دوران غزہ کی پٹی پر چھے ہزار سے زیادہ فضائی حملے کیے تھے اور توپ خانے کے پچاس ہزار سے زیادہ گولے داغے تھے۔

رپورٹ میں غزہ کی پٹی سے اسرائیلی علاقے کی جانب بلا امتیاز ہزاروں راکٹ اور مارٹر گولے چلانے پر بھی کڑی تنقید کی گئی ہے اور اس میں کہا گیا ہے کہ ان راکٹ حملوں کا مقصد بظاہر اسرائیلی شہریوں میں خوف وہراس پھیلانا تھا۔

اقوام متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن نے نیویارک کی سپریم کورٹ کی سابق جج میری میکگووان ڈیوس کی سربراہی میں غزہ جنگ کی تحقیقات کی ہے۔اقوام متحدہ کی تحقیقاتی رپورٹ نے کمیٹی کے مینڈیٹ کے مطابق 23 مارچ کو شائع ہونا تھی لیکن اس کے سابق سربراہ پروفیسر ولیم شاباس کے مستعفی ہونے کے بعد اس کے اجراء میں تین ماہ کی تاخیر ہوئی ہے لیکن واضح رہے کہ اسرائیل اس کے مندرجات کو پہلے ہی مسترد کرچکا ہے اور اس نے جنگی جرائم اور انسانیت مخالف جرائم کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا۔

یاد رہے کہ جولائی اور اگست 2014ء میں اسرائیل کی غزہ کی پٹی پر مسلط کردہ جنگ کے دوران بائیس سو سے زیادہ فلسطینی شہید ہوئے تھے جبکہ فلسطینی مزاحمت کاروں کے ساتھ جھڑپوں یا ان کے حملوں میں چھے اسرائیلی شہری اور سڑسٹھ فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔اقوام متحدہ کی کمیٹی نے فریقین کی جانب سے جنگی جرائم کے ارتکاب اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کی ہے۔