.

اسرائیل میں تین سال کے بعد مصری سفیر کا تقرر

بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے نئے مصری سفیر کے تقرر کا بھرپور خیرمقدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر نے تین سال کے بعد اسرائیل میں اپنے نئے سفیر کا تقرر کیا ہے۔مصر کے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی نے سنہ 2012ء میں تل ابیب میں متعین مصری سفیر کو واپس بلا لیا تھا اور اس کے بعد نئے سفیر کا تقرر نہیں کیا گیا تھا۔

مصر کی سرکاری خبررساں ایجنسی مینا کی رپورٹ کے مطابق صدر عبدالفتاح السیسی نے ہاضم خیرات کو اسرائیل میں نیا سفیر مقرر کیا ہے۔وہ اس سے قبل چلّی میں مصر کے سفیر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔البتہ مینا نے یہ نہیں بتایا ہے کہ وہ کب اپنی نئی ذمے داریاں سنبھالیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے ان کے تقرر بڑے پُرجوش انداز میں خیرمقدم کیا ہے۔انھوں نے مقبوضہ بیت المقدس میں ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ہمیں مطلع کیا گیا ہے کہ حکومتِ مصر اسرائیل میں اپنے سفیر کو بھیج رہی ہے۔یہ ایک اہم خبر ہے۔ہم اس کا خیرمقدم کرتے ہیں''۔

انھوں نے فرانسیسی وزیرخارجہ لوراں فابئیس کے ساتھ مشترکہ نیوزکانفرنس میں کہا کہ ''یہ ایک ایسا اقدام ہے جس کا اسرائیل میں بھرپور خیرمقدم کیا جاتا ہے اور میرے خیال میں یہ اسرائیل اور مصر کے درمیان امن کے لیے بہت اہم ہے''۔

واضح رہے کہ مصر عرب دنیا کا پہلا ملک ہے جس نے 1979ء میں اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کیے تھے۔اس کے بعد اردن نے 1994ء میں صہیونی ریاست کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

اسرائیل اور مصر کے درمیان دو طرفہ تعلقات جون 2012ء میں منعقدہ صدارتی انتخاب میں ڈاکٹر محمد مرسی کے صدر بننے کے بعد کشیدہ ہوگئے تھے۔ڈاکٹرمرسی نے نومبر 2012ء میں اسرائیلی فوج کے غزہ کی پٹی پر پے درپے فضائی حملوں کے بعد تل ابیب سے مصری سفیر کو واپس بلا لیا تھا۔