.

"داعش" نے بچوں کے سامنے مخالف جنگجو کی گردن اڑا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مشرق وسطیٰ کے ممالک میں سرگرم شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ عراق وشام 'داعش' نے شام کےمحاذ جنگ پر لڑنے والی ایک دوسری شدت پسند تنظیم النصرہ فرنٹ کے یرغمال بنائے گئے لیڈر کو بچوں اور عام شہریوں کے سامنے نہایت بے دردی سے قتل کر ڈالا۔

العربیہ ٹی وی کے مطابق شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنےوالے ادارے "آبزرویٹری" کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ انٹرنیٹ پر داعش کی جانب سے ایک فوٹیج پوسٹ کی گئی ہے جس میں یرغمال بنائے گئے النصرہ فرنٹ کے ایک جنگجو کا تلوار کے ذریعے سر قلم کرتے دکھایا گیا ہے۔

فوٹیج میں ایک جنگجو کوزمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھے دکھایا گیا ہے جس کے پیچھے داعش کا ایک جنگجو تلوار سونتے کھڑا ہے۔ قریب ہی لوگوں بالخصوص بچوں کا ایک جم غفیر ہے۔ لوگوں کی ھجوم کے سامنے داعشی جنگجو یرغمالی مخالف جنگجو کی گردن پر تلوار سے وار کرتا ہے جس کے نتیجے میں سرتن سے جدا ہوجاتا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق چند روز قبل داعش نے شام کے شہر دیرالزور میں المیادین کے مقام پر یرغمال بنائے گئے چار افراد کو عوام کے جم غفیر کی موجودگی میں موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ان چاروں یرغمالیوں کو نارنگی لباس پہنایا گیا تھا۔ انہیں قتل کے لیے المیادین شہر کے جنوب مغربی قلعہ الرحبہ کے سامنے لایا گیا جہاں پہلے سے بڑی تعداد میں لوگ بھی جمع تھے۔ شہریوں کے سامنے ان چاروں افراد کی گردنیں اڑا دی گئیں۔