.

کرد جنگجوئوں نے رقہ کا اہم قصبہ داعش سے چھین لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں کرد جنگجوئوں نے دولت اسلامیہ عراق وشام "داعش" کے جنگجوئوں کے خلاف فتوحات کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ شامی شہر تل ابیض اور اس کے مضافات پر قبضے کے بعد کرد جنگجوئوں نے داعش کے زیر انتظام الرقہ شہر کے ایک اہم مضافتی قصبے پر بھی قبضہ کرنے کے بعد داعش کو نکال باہر کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق کرد جنگجوئوں کو داعش کے خلاف زمینی پیش قدمی کے دوران امریکا کی قیادت میں اتحادی فوج کی فضائی معاونت بھی حاصل رہی ہے۔ اتحادی فوج کے جنگی طیارے داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کرتے ہیں اور کرد دستے زمینی کارروائی کرتے ہوئے پیش قدمی کررہے ہیں۔ پچھلے کچھ عرصے کے دوران کرد جنگجوئوں نے شام کے کرد اکثریتی علاقوں کو داعش سے واپس لینے کے بعد انہیں باہم مربوط بنانے میں کافی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اگرچہ کُردوں کی ان کامیابیوں نے اتحادی فوج کے فضائی حملوں کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

کرد جنگجوئوں نے پچھلے اڑتالیس گھنٹوں کے دوران شمالی شام میں داعش کے زیرقبضہ عین عیسی شہر پر قبضہ کر کے مزید پیش قدمی کی راہ ہموا کی ہے کیونکہ اس شہر کے قریب ہی داعش کے زیرکنٹرول ایک فوجی اڈا واقع ہے۔ عین عیسیٰ پر قبضے کے بعد اس اڈے کی سپلائی لائن منقطع ہوگئی ہے۔

دو روز قبل اتحادی فوج کی بمباری کے جلو میں کرد جنگجوئوں کی نمائندہ "حمایت الشعب" اور دوسرے گروپوں نے مل کر داعش کے خلاف آپریشن میں حصہ لیا۔ خون ریز جھڑپوں کے بعد داعشی جنگجو لاشیں اور اسلحہ چھوڑ کر فرار ہونے پر مجبور ہوئے تھے۔

منگل کو کرد جنگجوئوں کے ترجمان ریدور خلیل نے بتایا کہ انہوں نے نہ صرف عین عیسیٰ جیسے اہم تزویراتی شہر کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا ہے بلکہ اس کے مضافات میں دسیوں دیہات کو بھی داعش سے چھین لیا ہے۔

قبل ازیں شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ادارے "آبزرویٹری" نے بھی ایک بیان میں الرقہ شہر کے شمال میں واقع عین عیسی ٰ شہر سے داعش کے جنگجوئوں کے انخلاء کی تصدیق کی تھی۔ بیان میں کہا گیا تھا کہ کردو جنگجوئوں کی جانب سے عین عیسیٰ میں بارودی سرنگوں کی صفائی کا کام جاری ہے۔

خیال رہے کہ کرد جنگجوئوں نے سوموار اور منگل کی درمیانی شب عین عیسیٰ شہر پر قبضہ کرلیا تھا۔ یہ شہر ماضی میں شامی فوج کے بریگیڈ 9 کا ہیڈ کواٹر تھا تاہم پچھلے سال جون میں داعش نے اسے شامی فوج سے چھین لیا تھا۔ یہ فوجی اڈہ شام میں داعش کے گڑھ الرقہ شہر سے محض 56 کلومیٹر کی مسافت پر ہے۔