.

داعش کے کوبانی اور نواحی گاؤں پر حملے میں 146 ہلاکتیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع کرد اکثریتی شہر کوبانی (عین العرب) اور اس کے ایک نواحی گاؤں پر سخت گیر گروپ دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کے جنگجوؤں کے تباہ کن حملے کے بعد ہلاکتوں کی تعداد ایک سو چھیالیس ہوگئی ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے جمعہ کے روز ایک بیان میں بتایا ہے کہ داعش کے جنگجو ترکی کی سرحد کی جانب سے جمعرات کو علی الصباح کوبانی میں داخل ہوئے تھے اور ان کی وہاں کرد فورسز کے ساتھ لڑائی جاری ہے۔

رامی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ داعش نے گذشتہ ایک سال کے بعد پہلی مرتبہ ایک دن اتنی زیادہ میں شہریوں کو ہلاک کیا ہے۔گذشتہ سال انھوں نے شام کے مشرقی علاقے میں یلغار کے وقت اپنے مخالف سنی قبیلے شعیطات کے سیکڑوں افراد کو قتل کردیا تھا۔

گذشتہ روز آبزرویٹری نے اطلاع دی تھی کہ داعش کے جنگجوؤں نے کوبانی سے بیس کلومیٹر جنوب میں واقع گاؤں برخ بوطان میں داخل ہو کر عورتوں ،بچوں اور مردوں کو اہدافی فائرنگ کا نشانہ بنایا تھا اور گولہ باری کی تھی۔وہ جمعرات کی صبح مختصر وقت کے لیے اس گاؤں میں داخل ہوئے تھے اور اتحادی طیاروں کے فضائی حملے اور کرد جنگجوؤں کی آمد کے بعد وہاں سے نکل گئے تھے۔

رامی عبدالرحمان نے بتایا تھا کہ ''داعش کے جنگجوؤں نے ترکی کی سرحد کے ساتھ واقع بارڈر کراسنگ کے نزدیک ایک خودکش بم دھماکا کیا تھا جس سے پانچ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔داعش اور کرد جنگجوؤں کے درمیان کوبانی میں خونریز جھڑپیں ہوئی ہیں اور اس کے بعد گلیوں اور بازاروں میں لاشیں بکھری پڑی تھیں''۔

کرد ملیشیا کے ایک عہدے دار نے بتایا ہے کہ داعش کے جنگجوؤں نے تین اطراف سے کوبانی پر حملہ کیا تھا۔شام کے سرکاری ٹیلی ویژن نے ایک فلیش خبر میں دعویٰ کیا تھا کہ داعش کے جنگجو ترکی کی جانب سے کوبانی پر حملہ آور ہوئے تھے لیکن ترکی کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے شامی ٹیلی ویژن کے دعوے کو جھوٹ قرار دے کر مسترد کردیا تھا۔