.

اسرائیلی فوج کا غزہ جانے والے امدادی فلوٹیلا پر قبضہ

بین الاقوامی سیاسی کارکنان کی کشتی کو زبردستی اسرائیلی بندرگاہ لے جایا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے ایک مرتبہ پھر ناکا بندی کا شکار غزہ کی پٹی کی جانب جانے والے چار چھوٹے بحری جہازوں پر مشتمل امدادی قافلے کو روک دیا ہے اور اس کو زبردستی ایک اسرائیلی بندرگاہ پر پہنچا دیا گیا ہے۔

اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بین الاقوامی امدادی کارکنان کو روکے جانے کے واقعے میں کوئی تشدد نہیں ہوا ہے اور فوجیوں نے ان کی کشتی پر سوار ہو کر اس کی تلاشی لی ہے اور پھر اس کو ایک اسرائیلی بندرگاہ کی جانب لے گئے ہیں۔

بین الاقوامی کارکنان کا کہنا ہے کہ کشتی پر چالیس پچاس یورپی شہری سوار تھے۔ان میں چند ایک سیاست دان بھی تھے اور وہ غزہ کی جانب جارہے تھے۔اسرائیلی بیان میں کہا گیا ہے کہ تمام سفارتی چینلز ناکام ہونے کے بعد اسرائیلی حکومت نے بحریہ کو چھوٹے جہاز کا رُخ موڑنے کی ہدایت کی تھی تاکہ اس کو غزہ کی بحری ناکا بندی توڑنے سے روکا جاسکے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے بین الاقوامی پانیوں میں جہاز کی تلاشی لی ہے اور پھر اس کو جنوبی بندرگاہ اشدود کی جانب لے گئے ہیں۔قبل ازیں فلسطینی نواز بین الاقوامی یک جہتی تحریک کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا تھا کہ فلوٹیلا کی قیادت مچھلیاں پکڑنے کے لیے استعمال ہونے والا ایک ٹرالر کررہا ہے۔اس کو ''میرین آف گوتھن برگ'' کا نام دیا گیا تھا اور اس پر سترہ ممالک سے تعلق رکھنے والے قریباً پچاس کارکنان سوار تھے۔ان میں ایک اسرائیلی عرب رکن پارلیمان بھی شامل تھے۔

ان کارکنان کا قافلہ 27 جون کو غزہ کے لیے روانہ ہوا تھا اور بحری جہازوں پر شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے والے سولر پینلز لدے ہوئے تھے جن کا مقصد غزہ کے محصور مکینوں کو درپیش بجلی کے سنگین مسئلے کا متبادل حل تلاش کرنے میں مدد دینا تھا۔

اسرائیل کے انتہا پسند وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایک بیان میں امدادی قافلے کو روکنے والے فوجیوں کو مبارک باد دی ہے اور کہا ہے کہ جہاز ایک ایسی منافقت کا مظاہرہ کررہا تھا جس کا مقصد حماس کی حمایت کرنا تھا۔انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل کا اقدام بین الاقوامی قانون کے مطابق ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیلی فوج نے گذشتہ نو سال سے غزہ کی پٹی کی بحری ،بری اور فضائی ناکا بندی کررکھی ہے اور وہاں بری اور بحری راستے سے کوئی بھی امدادی سامان لے جانے کی اجازت نہیں ہے۔اسرائیلی فورسز محصور فلسطینیوں کی امداد کے لیے ایسی کسی بھی کوشش کو ناکام بنا دیتی ہیں۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیمیں اور یورپی ممالک سے تعلق رکھنے والے باضمیر سیاسی کارکنان پہلے بھی اسرائیل کی ناکا بندی کو توڑنے کی کوشش کر چکے ہیں لیکن انھیں ہر مرتبہ ہی ناکامی کا منھ دیکھنا پڑتا ہے۔مئی 2010ء میں بحر متوسطہ میں ترکی کی جانب سے بھیجے گئے امدادی قافلے پر اسرائیلی فورسز نے دھاوا بول دیا تھا جس کے نتیجے میں دس ترک کارکنان جاں بحق ہوگئے تھے۔اس واقعے کے بعد سے اسرائیل اور ترکی کے درمیان کشیدگی چلی آرہی ہے۔