.

النصرہ فرنٹ اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کا شبہ ہے: محمود عباس

'داعش کا دھمکی آمیز بیان اسرائیل کے زیرانتظام علاقے میں سامنے آیا'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے دولت اسلامیہ عراق وشام "داعش" کی جانب سے مبینہ طور پر بیت المقدس میں مسیحی برادری پر حملوں کے دھمکی آمیز بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بیان اسرائیل کے زیر کنٹرول علاقوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

العربیہ ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے صدر محمود عباس نے کہا کہ اسرائیل اور شام میں لڑنے والی شدت پسند تنظیم النصرہ محاذ کے درمیان تعلقات کا شبہ ہے کیونکہ جب ہم یہ سنتے ہیں کہ شامی جنگجوئوں کا اسرائیلی اسپتالوں میں علاج کیا جاتا ہے تو اس سے اس شبے کو مزید تقویت ملتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں صدر ابو مازن کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی سخت دشمن سمجھی جانے والی تنظیم اسلامی تحریک مزاحمت "حماس" بھی صہیونی ریاست کے ساتھ بعض معاملات میں براہ راست مذاکرات کررہی ہے۔

فلسطین میں حکومت کی تشکیل کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں محمود عباس نے کہا کہ ان کے سامنے دو آپشن ہیں۔ ایک یہ کہ حماس کی شراکت سے ایک نئی قومی حکومت تشکیل دی جائے۔ دوسرا یہ کہ تحلیل کی گئی رامی الحمد اللہ کی کابینہ میں رد وبدل کیا جائے۔

فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ نے مصر اور اردن کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی کی تردید کی اور کہا کہ فلسطینی چاہتے ہیں کہ مصر اور اردن مذاکرات میں فلسطینیوں کے شانہ بہ شانہ چلیں اور وہ ایسا ہی کررہے ہیں۔