.

مصر کے پراسیکیوٹر جنرل کار بم دھماکے میں ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے پراسیکیوٹر جنرل ہشام برکات دارالحکومت قاہرہ میں ایک خودکش کار بم دھماکے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔

مصر کی وزارت صحت کے ترجمان کے مطابق سوموار کے روز ہشام برکات کے قافلے پر قاہرہ کے علاقے مصرالجدیدہ میں ملٹری اکیڈیمی کے نزدیک خودکش کار بم حملہ کیا گیا تھا۔بم دھماکے میں ہشام برکات شدید زخمی ہوگئے تھے۔انھیں فوری طور پر نزدیک واقع اسپتال منتقل کردیا گیا،جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسے ہیں۔

ان کے ساتھ بم دھماکے میں ایک شہری ،دوڈرائیور اور پانچ سکیورٹی اہلکار بھی شدید زخمی ہوئے ہیں۔وہ اس وقت اسپتال میں زیرعلاج ہیں۔ ہشام برکات کو جولائی 2013ء میں عبدالمجید محمود کے مستعفی ہونے کے بعد مصر کا پراسیکیوٹر جنرل مقرر کیا گیا تھا۔وہ مصر کے پہلے اعلیٰ عہدے دار ہیں جنھیں اس طرح خودکش کاربم حملے میں قتل کیا گیا ہے۔مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے ان کے اندوہناک قتل پر ملک میں منگل کو ایک روزہ سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔

فوری طور پر کسی گروپ نے اس بم حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے لیکن یہ شورش زدہ جزیرہ نما سیناء میں مصری سکیورٹی فورسز کے خلاف برسر پیکار جنگجوؤں ہی کی کارستانی ہوسکتی ہے۔ وہ پہلے شمالی سیناء میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر ہی بم حملے کررہے تھے لیکن گذشتہ چند ماہ سے وہ ملک کے دوسرے علاقوں میں عدلیہ سے وابستہ شخصیات کو بھی اپنے حملوں میں نشانہ بنا رہے ہیں۔

مئی میں شمالی سیناء کے شہر العریش میں مسلح افراد نے ایک گاڑی پر فائرنگ کرکے تین ججوں اور ان کے ڈرائیور کو ہلاک کردیا تھا۔مارچ میں ایک جج فتحی بایومی کے گھر کے باہر ایک چھوٹا بم پھینکا گیا تھا۔یہ جج مبارک دور کے وزیر داخلہ حبیب العدلی کے خلاف کرپشن کے الزامات کی تحقیقات کررہے تھے۔بم حملے کی جگہ کے نزدیک دیوار پر یہ الفاظ لکھ دیے گئے تھےا:''حبیب العدلی کی بریت پر تحفہ''

کالعدم اخوان المسلمون کے حامی مصری عدلیہ پر سیاسی فیصلے جاری کرنے اور اس جماعت کے مرشد عام محمد بدیع اور برطرف صدر محمد مرسی سمیت اعلیٰ قائدین کو معمولی جرائم پر موت اور دوسری سنگین سزائیں سنانے کے الزامات عاید کررہے ہیں۔

مصر کے مقتول پراسیکیوٹر جنرل ہشام برکات
مصر کے مقتول پراسیکیوٹر جنرل ہشام برکات