.

داعش نے مصری فوج پر حملوں کی ذمے داری قبول کرلی

جزیرہ نما سیناء میں مختلف چیک پوائنٹس پر حملوں میں 15 فوجیوں سمیت 30 ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کی مصر میں شاخ نے شورش زدہ جزیرہ نما سیناء میں مخلف فوجی چیک پوائنٹس پر حملوں کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔بدھ کے روز ان حملوں میں پندرہ مصری فوجیوں سمیت کم سے کم تیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

داعش کی جانب سے سوشل میڈیا کی ویب سائٹس پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ''خلافت کے شیر اللہ کی مہربانی سے بیک وقت ''غدار فوج'' کے پندرہ چیک پوائنٹس پر حملوں میں کامیاب رہے ہیں''۔

برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز نے اطلاع دی ہے کہ ان حملوں میں کم سے کم تیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔صوبہ شمالی سیناء کے دارالحکومت العریش کے جنرل اسپتال کے ڈاکٹر اسامہ السید نے بتایا ہے کہ ان کے پاس تیس لاشیں لائی گئی ہیں اور ان میں سے بعض کے جسموں پر فوجی وردیاں تھیں۔

مصری فوج کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ حملے میں بائیس دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا ہے۔علاقے میں جنگجوؤں اور فوجیوں کے درمیان کئی گھنٹے تک لڑائی ہوتی رہی ہے۔

مصری حکام نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کو بتایا ہے کہ جنگجوؤں نے سیناء کے قصبے شیخ زوید سے جنوب میں واقع علاقے میں بدھ کو حملے کیے ہیں اور انھوں نے چھے فوجی چیک پوائنٹس کو نشانہ بنایا ہے۔انھوں نے مزید کہا ہے کہ جنگجوؤں نے بعض فوجیوں کو یرغمال بھی بنا لیا ہے اور چند ایک فوجی گاڑیوں پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔

جزیرہ نما سیناء میں داعش کے فوجی چیک پوائنٹس پر حملوں سے دو روز قبل ہی دارالحکومت قاہرہ میں ایک خودکش کار بم دھماکے میں مصر کے پراسیکیوٹر جنرل ہشام برکات ہلاک ہوگئے تھے۔مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے ان کے اندوہناک قتل کے بعد کہا ہے کہ اب جنگجوؤں کے خلاف کارروائی میں تیزی لائی جائے گی۔

واضح رہے کہ شمالی سیناء میں جنگجو گذشتہ کئی سال سے مصری سکیورٹی فورسز کے خلاف برسرپیکار تھے لیکن جولائی 2013ء میں ملک میں پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد سے ان کی کارروائیوں میں تیزی آگئی ہے اور گذشتہ دوسال کے دوران ان کے حملوں میں سکیورٹی فورسز کے سیکڑوں اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔مصری فوج ایک بڑے کریک ڈاؤن کے باوجود ان کا قلمع قمع کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔