.

داعش کی غزہ سے حماس کو چلتا کرنے کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامی (داعش) نے غزہ کی پٹی کو اپنے نئے محاذ جنگ اور رجواڑے میں تبدیل کرنے کی دھمکی دی ہے اور اس فلسطینی علاقے کی حکمراں جماعت حماس پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ مذہب کا نفاذ مناسب طریقے سے نہیں کررہی ہے۔

داعش کے ایک نقاب پوش رکن نے ''حماس کے غداروں'' کے نام سے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا ہے جس میں دھمکی دی ہے کہ ''ہم صہیونی ریاست اسرائیل ،آپ اور فتح کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔تمام سیکولرسٹ کچھ بھی نہیں ہیں اور آپ ہمارے درانداز ہونے والے جنگجوؤں کی بڑی تعداد سے شکست سے دوچار ہوں گے''۔

اس جنگجو نے مزید کہا ہے کہ ''غزہ میں شریعت کی حکمرانی کا نفاذ کیا جائے گا۔ہم قسم کھا کر کہتے ہیں کہ شام اور خاص طور پر یرموک کیمپ میں آج جو کچھ ہورہا ہے،وہی کچھ غزہ میں بھی ہوگا''۔

وہ شامی دارالحکومت دمشق کے نواح میں واقع فلسطینی مہاجرین کے یرموک کیمپ کا حوالہ دے رہا تھا جس پر حال ہی میں داعش کے جنگجوؤں نے قبضہ کر لیا تھا۔یہ ویڈیو بیان شام سے جاری کیا گیا ہے اور اس میں پہلی مرتبہ اس طرح حماس کوکھلے بندوں چیلنج کیا گیا ہے۔

حماس اپنے زیرنگیں غزہ کی پٹی میں سخت گیر جنگجو گروپوں اور خاص طور پر سلفیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرتی رہتی ہے۔یہ سخت گیر گروپ حماس کی اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی اوراس کے متحارب سیاسی دھڑے فتح کے ساتھ مصالحت کی مخالفت کررہے ہیں۔

اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) صرف اسرائیلی قبضے کے خلاف جہاد کی داعی ہے اور اس کا دنیا کے دوسرے ممالک میں جہاد کرنے کا کوئی ایجنڈا نہیں ہے۔اس نے خود کو فلسطینی قومیت پرستی تک ہی محدود رکھا ہوا ہے۔

حماس کو اسرائیل ،امریکا اور یورپی یونین نے ایک دہشت گرد گروپ قرار دے رکھا ہے۔پڑوسی ملک مصر اس کو ایک علاقائی سکیورٹی خطرہ قرار دیتا ہے۔حماس کی اپنے زیرنگیں علاقے میں داعش سے وابستہ جنگجو گروپوں کے خلاف کارروائی کے باوجود بیرون ملک سے ہمدردیاں حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔