.

سیکڑوں فلسطینیوں کےغزہ داخلے کے اجازت نامے منسوخ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی حکومت نے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے سیکڑوں فلسطینی شہریوں کے غزہ کی پٹی میں داخلے کے لیے جاری کردہ اجازت نامے منسوخ کر دیے ہیں جس کے بعد غرب اردن کے فلسطینی غزہ کی پٹی میں اپنے عزیزوں کی سے ملاقات سے محروم ہو گئے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اسرائیلی وزارت دفاع کے زیر انتظام سول انتظامیہ نے اپنے ایک تازہ فیصلے میں غرب اردن کے فلسطینیوں کے غزہ کی پٹی میں داخلے کے لیے جاری کردہ اجازت نامے منسوخ کرنے کا اعلان کیا۔ اس فیصلے سے ایک روز قبل صہیونی حکومت نے غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے کے فلسطینیوں کی مسجد اقصیٰ میں نماز جمعہ کے لیے آمد کی ایک حد مقرر کرنے کا اعلان کیا تھا۔

یہ فیصلے ایک ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب دو روز قبل مغربی کنارے میں فائرنگ کے نتیجے میں ایک یہودی ہلاک اور تین زخمی ہو گئے تھے۔

واضح رہے کہ ماہ صیام میں فلسطین کے تمام علاقوں سے شہری مسجد اقصیٰ میں نمازوں کی ادائی کی خواہش کے تحت بیت المقدس کے لیے رخت سفر باندھتے ہیں مگر صہیونی فوج کی جانب سے انہیں روکنے کے لیے تمام تر ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مسجد اقصیٰ میں آنے والوں کی بیت المقدس کے باہر کے باشندوں کی تعداد متعین کرنےکے پیچھے بھی صہیونی ریاست کا مقصد یہی ہے کہ ماہ صیام میں فلسطینیوں کو قبلہ اول تک رسائی سے محروم رکھا جا سکے۔ اسی طرح اسرائیلی حکومت نے مغربی کنارے کے 500 فلسطینیوں کی بن گوریون ہوائی اڈے سے سفرکی اجازت بھی منسوخ کر دی گئی ہے۔