.

حلب: باغیوں کا فوجی اڈے پر قبضہ، اسدی فوج پسپائی پر مجبور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں انسانی حقوق کی صورتحال پر نظر رکھنے والے ادارے 'شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق' کے مطابق شامی باغیوں نے شام کے مغربی شہر حلب میں سرکاری فوج کی تزویراتی اہمیت کے فوجی اڈے پر قبضہ کر لیا ہے۔

لندن میں قائم شامی آبزرویٹری کا کہنا تھا کہ باغی گروپوں کے اتحاد نے سائنسی ریسرچ سنٹر پر قبضہ کرلیا ہے جسے فوجی بیرک کے طور پر بھی استعمال کیا جارہا تھا۔

آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے بتایا کہ باغی طاقتوں کی جانب سے اس اڈے پر قبضے کے بعد حکومت کے قبضے میں موجود ہمسایہ علاقوں پر حملوں کے ممکنہ راستے کھل جائینگے۔

باغیوں کا یہ اتحاد حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے جنگجوئوں کے ان دستوں میں شامل ہے جو کہ حالیہ دنوں میں حلب میں سرکاری فوج کے علاقوں پر حملے کررہے ہیں۔ جس گروپ نے فوجی اڈے پر قبضہ کیا ہے اس میں معتدل باغیوں کا اتحاد ہے۔

اس کے علاوہ 'انصار الشریعہ' کے نام سے ایک دوسرا اتحاد مغربی حلب میں سرگرم ہے اور اس میں القاعدہ کی مقامی برانچ النصرہ فرنٹ بھی شامل ہے۔

کسی وقت میں شام کے معاشی مرکز کے طور پر پہچانے جانے والے شہر حلب آج کل حکومت اور باغیوں کے درمیان بٹا ہوا ہے۔ اس کے مغربی حصے میں سرکاری فوج جبکہ مغربی حصے میں باغیوں کا قبضہ ہے۔

انٹرنیٹ پر نشر کردہ ایک وڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ جنگجو سائنسی ریسرچ سنٹر کی عمارت کے ساتھ تین ستاروں والا شامی بغاوت کا جھنڈا لہرا رہا ہے۔

آبزرویٹری کا کہنا تھا کہ حکومت کے جنگی جہازوں نے سنٹر پر شدید بمباری کی تھی جس کے نتیجے میں باغیوں کو اس کے کئی حصوں کو خالی کرنا پڑ گیا تھا۔

مانیٹر کے مطابق حکومتی فورسز نے سنٹر کو رات کے اندھیرے میں واپس لینے کی کوشش کی مگر وہ اس کوشش میں کامیاب نہ ہوسکے۔

اس کے علاوہ مغربی حلب میں انصار الشریعہ اور بشار الاسد کے حامیوں کے درمیان زہرہ کے علاقے میں شدید جھڑپیں جاری ہیں۔ اس اتحاد نے جمعرات کی رات کو زہرہ اور دیگر مضافاتی علاقوں میں حکومتی فوج کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کررکھا ہے۔ انہیں کچھ فتوحات ملی تھیں مگر بعد میں جمعہ کے روز حکومتی بمباری کی وجہ سے انہیں پسپائی اختیار کرنا پڑی۔

آبزرویٹری نے بتایا کہ انصار الشریعہ کے کم از کم 29 جنگجو جمعہ کے روز ہلاک ہوگئے تھے مگر انہوں نے حکومتی فورسز کو ہونیوالے جانی نقصان کی اطلاع نہیں دی۔