.

شام: مسجد دھماکے میں النصرہ محاذ کے 25 جنگجو ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جنوبی شام میں ادلب گورنری کی ایک مسجد میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں شامی القاعدہ سے تعلق رکھنے والے النصرہ فرنٹ کے 25 باغی ہلاک ہو گئے، جن میں تنظیم کا ایک اہم رہنما بھی شامل ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' نے شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے آبزرویٹری گروپ کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمٰن کے حوالے سے بتایا کہ جمعہ کی شام صوبہ ادلب کے شہر اریحا میں افطار کے بعد اُس وقت زوردار دھماکا ہوا، جب مسجد سالم میں نمازِ مغرب ادا کی جا رہی تھی۔

رامی عبدالرحمٰن کے مطابق واقعے میں مزید ہلاکتوں کا بھی خدشہ ہے کیوںکہ دھماکے کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

برطانوی آبزرویٹری گروپ کے مطابق "النصرہ گروپ" کے اہم رہنما سمیت 25 جنگجو صوبہ ادلب کی مسجد میں دھماکے کے نتیجے میں ہلاک ہوئے"۔

تاہم ابھی تک دھماکے کی نوعیت کا تعین نہیں کیا جا سکا۔

شامی انقلاب کے جنرل کمیشن نامی ایک سرگرم گروپ کا کہنا ہے کہ "النصرہ فرنٹ کے جنگجووں سمیت سیکڑوں مسلمان اریحا کی ایک مسجد میں افطار کے بعد نمازِ مغرب کے لیے جمع تھے کہ دھماکا ہوا"۔

گروپ کے مطابق اس دھماکے کے نتیجے میں عام شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں تاہم اس حوالے سے مزید معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

واضح رہے کہ صوبہ ادلب کے زیادہ تر حصے پر باغیوں کا قبضہ ہے جنھوں نے حکومتی فورسز کو یہاں سے بے دخل کرنے کے لیے اپوزیشن گروپ النصرہ فرنٹ کے ساتھ الحاق قائم کر رکھا ہے۔

شام میں 2011 کے بعد سے شروع ہونے والے حکومت مخالف احتجاج اور خانہ جنگی کے نتیجے میں اب تک 230,000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔