.

حزب اللہ کا میشل عون کو مسیحی حقوق کی تحریک پر انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں جاری سیاسی کشیدگی کے جلو میں عیسائی کمیونٹی کے سرکردہ لیڈر میشل عون نے عیسائی برادری کے سیاسی وسماجی حقوق کے لیے سڑکوں پر نکلنے کی دھمکی دی ہے۔ دوسری جانب اہل تشیع کی نمائندہ سخت گیر حزب اللہ نے میشل عون کو خبردار کیاہے کہ وہ مسیحی برادری کے حقوق کے حصول کی مساعی کی آڑ میں فرقہ واریت میں نہ پڑیں ورنہ اس کے خطرناک نتائج مرتب ہوسکتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق لبنان میں مسیحی برادری کے نمائندہ مشیل عون اور حزب اللہ کے درمیان ایک جانب قربت اور اتحاد کی فضاء بھی قائم ہے تاہم حزب اللہ نے اپنے اتحادی کو یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ وہ فرقہ وارایت کی طرف لے جانے والی کسی تحریک کا حصہ نہ بنے۔ میشل عون کی جانب سے مسیحی برادری کے سلب کیے گئے حقوق کے حصول کے لیے سڑکوں پر نکلنے کی دھمکی کے بعد حزب اللہ کے زیر انتظام ذرائع ابلاغ میں یہ تاثر دیا گیا ہے کہ "حزب اللہ" اس صورت حال میں غیر جانب دار ہے، لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کی 'غیر جانب داری' کے پیچھے بھی ایک مقصد چھپا ہوا ہے۔ حزب اللہ خود پردے میں رہ کر اپنے حلیف مشیل عون کو منظرعام پر آتے ہوئے دیکھنا چاہتی ہے اور مرحلہ وار اس کے ساتھ شامل ہونے کی پالیسی پر گامزن ہے تاکہ تنظیم پر براہ راست کوئی الزام یا شک نہ کیا جا سکے۔

حزب اللہ کے مقرب ذرائع ابلاغ کے ہاں نشرکی جانے والی رپورٹس میں بھی میشل عون کی جانب سے سڑکوں پر نکلنے کے دھمکی آمیز بیان تبصرہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس طرح کی تحریکات کے "منفی اثرات" مرتب ہونے کا اندیشہ ہے، لیکن ان رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ میشل عون اپنے مسلمان مخالفین کے خلاف مہم چلاتے ہوئے مخصوص طبقے کے مفادات کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ وہ دیگرلبنانی طبقات کی قیمت پرصرف مسیحی برادری کےحقوق کے لیے کوشاں ہیں۔

"مسلمان پاٹنر" کی رکاوٹ

مبصرین کے خیال میں حزب اللہ کی جانب سے لبنان کے عیسائیوں کو بہت پہلے ہی خبردار کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا تھا۔ سب سے پہلے حزب اللہ کی تنبیہ اس وقت سامنے آئی جب بیروت میں سعودی سفارت خانے میں مسیحی دستاویزات کے منظرعام پر آنے کا واقعہ پیش آیا۔ اس کے بعد حزب اللہ کی جانب سے مسیحی برادری سے منتخب ہونے والے سابق صدر امین الجمیل، ڈاکٹر سمیر جعجع اور گرپ مارچ 14 میں شامل عیسائی رہ نمائوں کو بھی خبردار کیا جاتا رہا ہے کہ وہ صرف مسیحیت کی بنیاد پر کسی تحریک سے دور رہیں۔

حزب اللہ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ لبنان میں عیسائی قیادت اپنے ہم مذہبوں کے حقوق کے لیے کوئی تحریک شروع کرتی بھی ہے تب بھی عرب دنیا میں موجود عیسائی برادری کھل کر اس کا ساتھ نہیں دے گی۔ ساتھ نہ دینے کی وجہ ان کی دلچسپی میں کمی نہیں بلکہ عرب مسیحی برادری میں کسی ایسی تحریک کا ساتھ دینے کا دم خم نہیں ہے۔ اس وقت چونکہ عرب دنیا میں داعش، النصرہ فرنٹ اور سلفی جہادی تحریکوں نے زور پکڑ رکھا ہے اور وہ عرب ملکوں میں اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے حالات میں لبنان کی مسیحی برادری کا کوئی نئی تحریک شروع کرنا فرقہ واریت کی راہ پر چلنے کے مترادف ہو گا۔ حزب اللہ کا کہنا ہے کہ میشل عون کی تحریک کی راہ میں مسلمان پارٹنر کا نہ ہونا اصل رکاوٹ ہے۔

یورپ کی "سنیت نوازی"

حزب اللہ کو یورپی ممالک سے بھی شکوہ ہے کہ وہ آج تک عرب ممالک کے عیسائیوں کی خاطر اس لیے کچھ نہیں کر سکا کیونکہ اس نے عرب ملکوں کے سنی مسلمانوں کے ساتھ اپنے مفادات وابستہ کر رکھے ہیں۔

حزب اللہ کی جانب سے یہی بات عیسائیوں کے حقوق کے پرچارک مشیل عون کو بھی بتائی گئی ہے اور انہیں کہا گیا ہے کہ جس یورپ سے آپ تعاون کی امیدیں لگا رہے ہیں وہ عرب ممالک کے عیسائیوں کو عرب دنیا سے الگ نہیں سمجھتے۔ وہ نہیں چاہتے کہ عرب ملکوں میں مقیم مسیحی برادری کسی دوسرے ملک کی طرف نقل مکانی شروع کر دے۔ عیسائی دنیا کے دو بڑے نمائندہ ممالک فرانس اور برطانیہ کے مسلمانوں بالخصوص عرب ممالک کے سنی طبقات کے ساتھ گہرے مراسم ہیں۔ اسی طرح امریکا بھی عرب خطے کے عیسائیوں کو عرب ہی شمار کرتا ہے، انہیں الگ سے کوئی مقام دینے کو تیار نہیں ہے۔

حقوق غصب کرنے میں ویٹکن بھی شامل

حزب اللہ نے اپنی رپورٹس میں دنیائے عیسائیت کے مذہبی مرکز"ویٹکن" کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ ویٹکن کی لبنانی عیسائیوں کے بارے میں پالیسی گونگے بہرے پن کا مظہر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ویٹکن لبنانی مسیحی برادری کے سیاسی اور ثقافتی حقوق کی حمایت سے سبکدوش ہو چکا ہے۔ اس لیے اب ویٹکن سے کسی انقلاب قدم کی توقع بھی عبث ہے۔ حزب اللہ کی جانب سے ویٹکن سے استفسار کیا گیا کہ اسے پتا ہے کہ لبنان اور عرب خطے کے عیسائیوں کو ایران یا سعودی عرب کی طرف سے مدد مل رہی ہے؟