.

دو اسرائیلی غزہ میں گرفتار،ایک حماس کے زیر حراست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت دو اسرائیلی شہری غزہ کی پٹی میں گرفتار ہیں اور ان میں سے ایک حماس کے زیر حراست ہے۔

فلسطینیوں کے سول امور سے متعلق اسرائیل کے دفاعی ادارے کا کہنا ہے کہ ان میں سے ایک ابراہم مینجسٹو نامی شہری گذشتہ سال 7 ستمبر کو سرحدی باڑھ عبور کرکے غزہ کی پٹی میں داخل ہوا تھا۔

فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی حکومت کی سرگرمیوں کے رابطہ کار نے قابل اعتماد انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ ''مینجسٹو کو حماس نے زیرحراست رکھا ہوا ہے۔اسرائیل نے بین الاقوامی اور علاقائی ثالث کاروں سے اس کی فوری رہائی کی اپیل کی ہے''۔

اس ادارے کے مطابق غزہ میں گرفتار دوسرا اسرائیلی عرب شہری ہے لیکن اس کے بارے میں مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی گئی کہ وہ کس فلسطینی تنظیم کے زیر حراست ہے۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق مینجسٹو اپنی مرضی سے سرحد عبور کرکے غزہ کی پٹی کی جانب گیا تھا۔

اب اسرائیلی حکام اس خدشے کا اظہار کررہے ہیں کہ حماس ان دونوں شہریوں کو چھوڑنے کے بدلے میں اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کی رہائی کے لیے سودے بازی کرسکتے ہیں۔حماس نے قبل ازیں اسرائیلی فوجی گیلاد شالیت کو رہا کرنے کے بدلے میں اسرائیلی جیلوں میں قید ایک ہزار سے زیادہ فلسطینیوں کو چھڑوایا تھا۔اس صہیونی فوجی کو حماس کے مزاحمت کاروں نے سنہ 2006ء میں سرحدی علاقے میں ایک چھاپہ مار کارروائی کے دوران گرفتار کیا تھا۔

اسرائیلی وزیردفاع موشے یعلون نے اسی ہفتے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل گذشتہ سال موسم گرما میں جنگ کے دوران ہلاک ہونے والے دو صہیونی فوجیوں کی باقیات کی واپسی کا بھی خواہاں ہے۔تاہم حماس نے اس حوالے سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔