.

سیناء: بم دھماکے میں 20 مصری پولیس اہلکار زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے شورش زدہ علاقے شمالی سیناء میں سڑک کے کنارے نصب بم کے دھماکے میں بیس پولیس اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔

سکیورٹی حکام کے مطابق پولیس اہلکار جمعرات کو ایک بس میں سفر کررہے تھے اور اس پر شمالی سیناء کے صوبائی دارالحکومت العریش کے نواح میں ریموٹ کنٹرول کے ذریعے بم حملہ کیا گیا ہے۔

فوری طور پر کسی گروپ نے اس بم حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے لیکن اس علاقے میں داعش سے وابستہ جنگجو گروپ ''صوبہ سیناء'' مصری سکیورٹی فورسز کو اپنے حملوں میں نشانہ بنا رہا ہے۔اس گروپ کے جنگجوؤں نے یکم جولائی کو شمالی سیناء میں بیک وقت پندرہ چیک پوائنٹس پر حملے کیے تھے جن کے نتیجے میں سکیورٹی حکام کے مطابق اکیس فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔

مصر کے میڈیا ذرائع کے مطابق جنگجوؤں کے حملوں میں فوجیوں کی ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ تھی۔ان حملوں کے رد عمل میں مصری سکیورٹی فورسز نے یکم سے پانچ جولائی کے درمیان شمالی سیناء میں فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں میں دو سو اکتالیس جنگجوؤں کو ہلاک کردیا ہے۔

واضح رہے کہ شمالی سیناء میں جنگجو گذشتہ کئی سال سے مصری سکیورٹی فورسز کے خلاف برسرپیکار تھے لیکن جولائی 2013ء میں ملک کے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد سے ان کی تشدد آمیز کارروائیوں میں تیزی آئی ہے اور گذشتہ دوسال کے دوران ان کے حملوں میں سکیورٹی فورسز کے سیکڑوں اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔

ان جنگجوؤں کا کہنا ہے کہ وہ مصری فورسز کے ڈاکٹر محمد مرسی کے حامیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے ردعمل میں حملے کررہے ہیں۔ان کے اس مؤقف کی بنا پر مصری حکومت ان کا ناتا ملک کی سب سے بڑی مگر اب کالعدم جماعت اخوان المسلمون سے جوڑتی ہے لیکن اخوان کی قیادت کا کہنا ہے کہ ان کا تشدد سے کوئی لینا دینا نہیں اور نہ ان کا اس جنگجو گروپ سے کوئی تعلق ہے۔