.

شامی مہاجرین کی تعداد 40 لاکھ سے متجاوز:اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق شام میں سنہ 2011ء کے وسط سے جاری خانہ جنگی کے بعد گھربار چھوڑ کر بیرون ملک جانے والے شامیوں کی تعداد چالیس لاکھ سے متجاوز ہوگئی ہے اور یہ گذشتہ پچیس سال میں کسی ملک میں بحران کے نتیجے میں بے گھر ہونے والوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔

اقوام متحدہ کے تحت پناہ گزینوں کے ادارے (یو این ایچ سی آر) نے ترکی سے فراہم ہونے والے تازہ اعدادو شمار کے بعد شامی مہاجرین کی اس تعداد کی تصدیق کی ہے۔ادارے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بیرون ملک مقیم شامی مہاجرین کے علاوہ چھہتر لاکھ سے زیادہ افراد شام کے اندر دربدر ہیں۔وہ اپنے گھربار کو چھوڑ کر پناہ گزین کیمپوں یا سرکاری عمارتوں میں مقیم ہیں۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین انتونیو گٹریس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''کسی ایک تنازعے میں ایک نسل میں مہاجر آبادی کی یہ سب سے زیادہ تعداد ہے۔اس آبادی کو دنیا کی مدد کی ضرورت ہے۔یہ لوگ انتہائی نامساعد حالات میں رہ رہے ہیں اورغُربت کی چکی میں پس رہے ہیں''۔

یو این ایچ سی آر نے دس ماہ قبل ہی دوسرے ممالک میں پناہ گزین شامی مہاجرین کی تعداد تیس لاکھ سے زیادہ بتائی تھی لیکن حالیہ مہینوں کے دوران شام کے شمالی علاقوں میں لڑائی میں شدت کے بعد گھربار چھوڑ کر بیرون ملک جانے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اب ان کی تعداد چالیس لاکھ سے بڑھ گئی ہے۔

یواین ایچ سی آر کے مطابق صرف جون میں ترکی میں شام کے شمالی علاقوں سے چوبیس ہزار مہاجرین کی آمد ہوئی ہے۔ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع شہر کوبانی اور اس کے نواحی دیہات میں داعش اور کرد ملیشیا کے درمیان حالیہ لڑائی کے بعد ایک مرتبہ پھر لوگ اپنا گھربار چھوڑ کر ترکی کا رُخ کررہے ہیں اور اس وقت ترکی میں مقیم شامی مہاجرین کی تعداد اٹھارہ لاکھ سے بڑھ چکی ہے۔اس طرح ترکی دنیا میں سب سے زیادہ مہاجرین کی میزبانی کرنے والا ملک بن گیا ہے اور وہ ان کے اخراجات اپنے قومی خزانے سے پورا کررہا ہے۔