.

شامی فوجی داعش کو اسلحہ فروخت کرتے پکڑے گئے!

بشار الاسد کے وفاداروں کا نیا اسکینڈل منظرعام پر آ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کی ملٹری انٹیلی جنس نے فوج اور ملٹری پولیس کے افسروں اور اہلکاروں کے ایک گروپ کو حراست میں لیا ہے جس پر الزام ہے کہ وہ مبینہ طور پر شدت پسند گروپ دولت اسلامی کے جنگجوئوں کو فوجی گاڑیوں میں اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد فراہم کرتے رہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ملٹری انٹیلی جنس نے حماۃ گورنری، حمص اور تدمر شہروں میں ایسی کئی فوجی گاڑیاں پکڑی ہیں جن میں فوجی سازو سامان اور دھماکا خیز مواد لادا گیا تھا اور اسے مبینہ طور پر"داعش" کے جنگجوئوں کو پہنچانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔

ذرائع کے مطابق دشمن گروپ کو خفیہ طور پر دھماکہ خیز مواد سپلائی کرنے کے لیے فوجی گاڑیوں کا استعمال کیا گیا۔ گاڑیوں پر لادے گئے اسلحہ کو ایسی ترپالوں کی مدد سے ڈھانپا گیا تھا جنہیں عموما شامی فوجی استعمال کرتے ہیں۔

مبصرین کےخیال میں شامی فوج کی جانب سے "داعش" جیسے انتہا پسند گروپوں کو دھماکہ خیز مواد کے ٹرک فروخت کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اندرون خانہ فوج اور داعش کے درمیان تعلقات پائے جاتے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ شامی انٹیلی جنس اہلکاروں نے پہلے حمص میں اپنے فوجیوں کو داعش کواور گولہ بارود فروخت کرتے رنگے ہاتھوں پکڑا جس کے بعد ملک کے دوسرے شہروں میں کارروائی کی گئی تو تدمر کے دیہی علاقوں اور حماۃ گورنری میں بھی ملٹری پولیس کو اس دھندے میں ملوث پایا گیا۔ تحقیقات کرنے پرپتا چلا کہ داعش کو اسلحہ کے ٹرک بھر کر فروخت کرنے والوں میں شام کی ملٹری پولیس اور نیشنل ڈیفنس فورس کے اہلکار بھی شامل ہیں۔

محاذ جنگ سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ "داعش" کو بارود مہیا کرنے والوں میں شامی فوج کے کسی ایک ادارے کے افسر اور اہلکار ملوث نہیں ہیں بلکہ اس میں بیشتر سیکیورٹی اداروں کے بڑے بڑے عہدیدار ملوث ہیں۔ ان میں نیشنل ڈیفنس فورس، ری پبلیکن گارڈز، پولیٹیکل سیکیورٹی پولیس جیسے ادارے بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں۔ اس سارے اسکینڈل سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ شامی فوج اپنے ملک میں دہشت گردی کے لیے دشمن کی خود ہی مدد کر رہی ہے۔

اسلحہ اسمگلنگ شامی فوج کے زیر انتظام علاقوں میں

میڈیا رپورٹس کے مطابق شامی ملٹری انٹیلی جنس نے جن علاقوں میں اسلحہ اور گولہ بارود کے بھرے ٹرک جنہیں مبینہ طور پر داعش شدت پسندوں کو پہنچایا جانا تھا پکڑے ہیں وہ علاقے نہ صرف شامی فوج کے کنٹرول میں ہیں بلکہ صدر بشار الاسد کے وفاداروں کے علاقے سمجھے جاتے ہیں۔

ایک تازہ کھیپ "راس العین" کے جبلہ نامی شہر سے پکڑی گئی۔ اس کے علاوہ راس العین اور حماۃ کے درمیان "بیت یاشوط" کے مقام سے بھی ایسے مشکوک ٹرک اور فوجی گاڑیاں ضبط کی گئی ہیں جنہیں دھماکا خیز مواد بھر کر داعش کو منتقل کیا جا رہا تھا۔ حماۃ کےعلاوہ حمص اور تدمر کے دیہی علاقوں میں جہاں جہاں سے ایسی مشکوک گاڑیاں پکڑی گئی ہیں وہ سو فی صد شامی فوج کے وفاداروں کے علاقے سمجھے جاتے ہیں اور وہاں پر مکمل سیکیورٹی کنٹرول شامی فوج کے ہاتھ میں ہے۔

حماۃ اور راس العین کے درمیان" بیت یاشوط" نامی علاقہ پہلے چھوٹی چھوٹی بستیوں پرمشتمل تھا لیکن خانہ جنگی کے وسعت پکڑنے کے بعد یہ علاقے شامی فوج کے حفاظتی مراکز بنتے چلے گئے جس کی وجہ سے ان کی دفاعی اہمیت بھی بڑھ گئی۔ "بیت یاشوط" کا 100 فی صد علاقہ شامی فوج کے کنٹرول میں ہے۔ وہاں کے مقامی باشندوں کو بشار الاسد کی وفاداری پر اتنا یقین ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں راہ چلتے ہوئے شک کی نگاہ سے دیکھنا اور ہم سے کسی قسم کی پوچھ تاچھ کرنا عجیب لگتا ہے کیونکہ سب جانتے ہیں یہاں بشارالاسد کی مخالفت کرنے والا کوئی ایک فرد بھی نہیں ہے۔ سب صدر اسد کے وفادر ہیں۔۔ یہاں سے گذرنے والی گاڑیوں کی چیکنگ بھی کم ہی کی جاتی ہے لیکن جب سے پتا چلا ہے کہ اس علاقے سے داعش کو اسلحہ اور دیگر دھماکہ خیز مواد فراہم کیا جاتا ہے چیکنگ سخت ہو گئی ہے۔

اسکینڈل چھپانے کی خاطر دوسرا اسکینڈل

داعش کو مبینہ طورپر دھماکہ خیز مواد فراہم کرنے میں ملوث سرکاری فوجیوں کے نام صیغہ راز میں رکھنے کے لیے ان کے پیٹی بھائی بھی میدان میں آگئے ہیں۔ یہ ایک اسکینڈل چھپانے کے لیے دوسرا اسکینڈل ہے۔ تفتیش کاروں کی جانب سے نہ تو ان فوجیوں کےنام ظاہر کیے جا رہے ہیں اور نہ ہی ان کے عہدوں کی تفصیلات سامنے لائی جا رہی ہیں تاکہ کسی کو ان اصل چہروں کے بارے میں پتا نہ چل سکے۔

شام کے ایک دوسرے شہر الاذقیہ میں بھی بشارالاسد کے وفاداروں کی جانب سے فوج پر دشمن کے ساتھ خفیہ ساز باز کا الزام عاید کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فوج میں کرپشن اس حد تک عام ہو چکی ہے کہ فوجی افسر ایجنٹوں کی مدد سے داعش کو اسلحہ فروخت کرتے پکڑے گئے ہیں۔

الاذقیہ کے باشندوں کا کہنا ہے کہ اگر فوج میں "داعش" کو اسلحہ اور گولہ بارود فروخت کرنے میں ملوث عناصر موجود ہیں تو ان کے نام چھپانے کی آخر کیا ضرورت ہے۔ قوم یہ جاننا چاہتی ہے کہ وہ کون ہیں جو دشمن کو بھی اپنا اسلحہ فروخت کر کے پیسا کما رہے ہیں۔ عوام کی جانب سے شامی انٹیلی جنس اداروں پر بھی کڑی تنقید کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ انٹیلی جنس ادارے اسلحہ کی اسمگلنگ میں ملوث فوجیوں کی شناخت ظاہر نہ کرکے اس غیر قانونی طرز عمل کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔