.

شامی فوج کا داعش کے زیر قبضہ قصبے پر حملہ ،13 شہری ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں داعش کے زیر قبضہ ایک قصبے پر اسدی فوج کے حملے میں تیرہ شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے سوموار کو اطلاع دی ہے کہ صوبہ حلب میں واقع قصبے الباب پر فضائی بمباری میں ہلاک ہونے والوں میں ایک بچہ اور سات خواتین شامل ہیں۔

شامی فوج نے الباب میں ایک مارکیٹ پر بھی بمباری کی ہے جہاں تیل فروخت ہورہا تھا۔بمباری میں چالیس سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں اور دس ابھی تک لاپتا ہیں۔مقامی رابطہ کمیٹیوں کے کارکنان کے نیٹ ورک نے بتایا ہے کہ بمباری کا نشانہ بننے والی ایک جگہ سے مسخ شدہ لاشیں نکالی گئی ہیں۔

شامی فوج نے ہفتے کے روز بھی الباب پر فضائی حملے کیے تھے جن کے نتیجے میں تین بچوں سمیت چونتیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔داعش نے سنہ 2014ء کے اوائل سے الباب پر قبضہ کررکھا ہے اور شامی فوج آئے دن اس قصبے کو اپنے حملوں میں نشانہ بناتی رہتی ہے۔

صدر بشارالاسد کی وفادار فوج پر باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں شہریوں پر بیرل بم برسانے کے بھی الزامات عاید کیے جاچکے ہیں لیکن شامی حکومت شہری علاقوں پر بیرل بم برسانے کے الزامات کی تردید کرتی ہے۔

شامی فوج گیس سلینڈروں یا ڈرموں میں بارود اور سکریپ لوہا بھر کر بیرل بم تیاری کرتی ہے اور انھیں باغیوں کے زیر قبضہ شہری علاقوں پر گرایا جارہا ہے۔شامی فوج پر بعض مواقع پر ان بیرل بموں میں مہلک کلورین گیس شامل کرنے کے الزامات بھی عاید کیے جاچکے ہیں لیکن وہ ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔