.

شامی فوج کا الباب پر ایک اور بیرل بم حملہ ،11 شہری ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمالی صوبے حلب میں داعش کے زیر قبضہ ایک قصبے پر اسدی فوج کے بیرل بموں سے حملے میں تین بچوں سمیت گیارہ شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی ہے کہ شامی فوج کے ہیلی کاپٹروں نے صوبہ حلب میں واقع قصبے الباب میں بیرل بم گرائے ہیں اور ہتھیار فائر کیے ہیں۔اس قصبے پر گذشتہ ہفتے کے روز سے شامی فوج کے فضائی حملوں میں اڑسٹھ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

آبزرویٹری کے سربراہ رامی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ شامی فوج نے الباب پر فضائی حملے تیز کردیے ہیں اور ان کا مقصد داعش کی مختلف محاذوں پر پیش قدمی کو روکنا اور ان کے راستے مسدود کرنا ہے۔داعش کے جنگجوؤں نے گذشتہ ایک سال سے اس کے نزدیک واقع قویرس کے فوجی ہوائی اڈے کا محاصرہ کررکھا ہے لیکن وہ اس پر قبضے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔

الباب داعش کے لیے تزویراتی لحاظ سے بڑی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ صوبہ حلب کے حکومت کے زیر قبضہ باقی رہ جانے والے علاقے اسی قصبے کے نزدیک واقع ہیں۔شامی فوج نے مئی میں بھی اس قصبے پر بیرل بموں سے حملے کیے تھے جن میں ساٹھ سے زیادہ شہری ہلاک ہوگئے تھے۔

داعش نے سنہ 2014ء کے اوائل سے الباب پر قبضہ کررکھا ہے اور شامی فوج آئے دن اس قصبے کو اپنے حملوں میں نشانہ بناتی رہتی ہے۔شامی فوج گیس سلینڈروں یا ڈرموں میں بارود اور سکریپ لوہا بھر کر بیرل بم تیاری کرتی ہے اور انھیں باغیوں کے زیر قبضہ شہری علاقوں پر گرایا جاتا ہے۔شامی فوج پر بعض مواقع پر ان بیرل بموں میں مہلک کلورین گیس شامل کرنے کے الزامات بھی عاید کیے جاچکے ہیں لیکن وہ ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔

ادھر مغربی صوبے ادلب میں باغی جنگجو گروپوں کے اتحاد اور داعش کے جنگجوؤں نے حکومت کے زیر قبضہ رہ جانے والے دو دیہات پر آج دوسرے روز بھی شدید گولہ باری کی ہے۔ان دونوں دیہات کی آبادی اہل تشیع پر مشتمل ہے۔

شام میں القاعدہ سے وابستہ النصرۃ محاذ اور دوسرے جنگجو گروپوں پر مشتمل جیش الفتح نے بدھ کو فوا اور کفریہ پر حملے کا آغاز کیا تھا۔ان دو دیہات کی بیشتر آبادی لڑائی چھڑنے کے بعد نقل مکانی کرچکی ہے۔

جیش الفتح کا کہناہے کہ ان دونوں دیہات پر اس کی چڑھائی لبنان کی شیعہ ملیشیا اور شامی فوج کے لبنانی سرحد کے نزدیک واقع قصبے الزبدانی پر حملے کا ردعمل ہے۔الزبدانی میں ان متحارب گروپوں کے درمیان جمعرات کو بھی شدید لڑائی کی اطلاعات ملی ہیں اور انھوں نے قصبے پر شدید گولہ باری کی ہے۔