.

پراسرار "داعشی" جنگجو کا مُردوں سے ہدایات لینے کا اعتراف!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں جاری بغاوت کی تحریک میں کہیں تو صدر بشارالاسد کی وفادار فوج اور انتہا پسند تنظیم دولت اسلامی "داعش" کے درمیان خفیہ تعاون کی خبریں سامنے آتی ہیں اور کہیں یہ دونوں بھی ایک دوسرے کے خلاف پوری قوت سے نبرد آزماد دکھائی دیتے ہیں۔ یہ دوہرا معیار بشارالاسد کی امریکا اور یورپ کی توجہ حاصل کرنے کی ایک الگ کوشش بھی ہوسکتا ہے جسے صدر اسد نے مقدس جنگ کا نام دے رکھا ہے۔ حال ہی میں شامی فوجیوں نے ایک دہشت گرد کو گرفتار کیا ہے جس نے دوران تفتیش پراسرار گفتگو کی ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ نے اس کی تفصیلات پر روشنی ڈالی ہے۔

میتوں سے ہدایات کا حصول

شامی ملٹری انٹیلی جنس کے ہاں گرفتار ایک پراسرار "داعشی" جنگجوئو کے ظاہری حلیے بھی اس کے بارے میں کئی قسم کی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کیونکہ اس کے چہرےکے خدو خال بھی غیر واضح ہیں۔ اگرچہ وہ عراقی عربی لہجے میں گفتگو کرتا ہے مگر وہ واضح انداز میں بول بھی نہیں سکتا ہے۔

شامی حکومت نے اس جنگجو کی شناخت حسام عبدالرزاق کے نام سے کی ہے اور اسے"قیمتی شکار" قرار دیا ہے۔ جنگجو "داعش" کے حامیوں کے بارے میں تسلیم کرتا ہے کہ یہ لوگ اسلام کی بنیادی شد بد سے بھی سے واقف نہیں ہیں۔ اس نے اعتراف کیا کہ میں نے شام کے "حسکہ" شہر میں بشارالاسد کی فوج کے خلاف داعش کے ساتھ مل کرلڑائی میں حصہ لیا تاہم اسے دیر الزور سے حراست میں لیا گیا۔

شام کے سرکاری ذرائع ابلاغ میں آنے والے اس کے اعتراف کی تفصیلات اور العربیہ کو موصول ہونے والی اس کی ویڈٰو گفتگو میں واضح تضاد دکھائی دے رہا ہے۔ حسام عبدالرزاق کو حسکہ گورنری میں ایک سے دوسرے مقام پر پیک اپ گاڑی کے ذریعے مسلسل منتقل کیا جاتا ہے اور اس کے ٹھکانے تبدیل کیے جا رہے ہیں۔ تاہم اس کے ٹھکانے کون بدل رہا ہے اس کے بارے میں واضح نہیں ہوسکا ہے۔

جب اسے پوچھا گیا کہ حسکہ میں لڑائی کے دوران انہیں کون کمانڈ کررہا تھا تو اس کا کہنا تھا کہ "کچھ لوگ ہمارے کمانڈر کا نام ابو محمد بتاتے ہیں۔ کچھ ابو عمر اور کچھ ابو اسامہ کا نام لیتے ہیں"۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ابوعمر الشیشانی نامی کمانڈر ایک سال سے زائد عرصہ قبل ہلاک ہوچکا ہے۔ تو جس ابوعمر کے بارے میں داعشی جنگجو بات کررہا ہے تو وہ کون سا ابو عمر ہوسکتا ہے۔ اگر اس کی مراد ابوعمر االشیشیانی ہے تو اس کامطلب یہ کہ "داعشی" جنگجو میتوں سے بھی ہدایات وصول کرتے ہیں۔

ایک سے دوسرے مقام پر منتقلی

داعشی جنگجو کی جانب سے اپنے کمانڈر بالخصوص ابو عمر الشیشانی کے بارے میں لا علمی کے اظہار پر اخباری ذرائع نے کئی قسم کے سوالات بھی اٹھائے ہیں۔ مثلا اگر حسام عبدالرزاق نامی جنگجو کے پاس اپنے کمانڈر کے بارے میں بھی ٹھوس معلومات نہیں ہیں اور وہ یہ بھی نہیں جانتا کہ ابو عمر الشیشانی کون ہے تو شامی ملٹری انٹیلی جس برتے پر اسے "قیمتی شکار" قرار دے رہے ہیں۔ اگر وہ اتنا ہی حساس شکار ہے جسے مسلسل ایک سے دوسرے مقام پر منتقل کیا جاتا ہے تو وہ مُردوں سے کیوں ہدایات وصول کر رہا ہے۔ وہ یہ کیوں کہتا ہے کہ فلاں یہ بات کہتا ہے۔ فلاں وہ نام لیتا ہےاور فلاں کمانڈر کی شناخت یوں بیان کرتا ہے۔ وہ خود کیوں نہیں بتا رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ صرف حسام عبدالرزاق ہی نہیں بلکہ دوسرے داعشی جنگجو بھی اپنے کمانڈر کے بارے میں اتنے ہی لا علم ہیں۔

کچھ لوگوں نے حسام عبدالرزاق کے اس بیان پر بھی خوب مذاق اڑایا ہے جس میں اس نے کہا کہ "اللہ کی قسم میں تو لڑا ہی نہیں"۔ دوسری جانب وہ کہتا ہے کہ ہم لوگ حسکہ کی لڑائی میں شامی فوج کے ساتھ سخت جنگ لڑتے رہے ہیں۔

شامی فوج کا دعویٰ ہے کہ اسے حسکہ سے حراست میں لیا گیا۔ خود "قیمتی شکار" کا کہنا ہے اسے دیر الزور سےپکڑا گیا۔ شامی فوج کا کہنا ہے کہ انہوں نے حسام عبدالرزاق کی زبان سے وہ بھی کچھ بھی کہلوا دیا ہے جو وہ نہیں جانتا تھا۔ وہ ایک نہایت خطرناک دہشت گرد ہے جو امریکیوں اور یورپیوں کے ہمراہ شامی فوج کے خلاف لڑائی میں شریک رہا ہے۔

دین سے دوری میں کارل مارکس سے بھی ملحد

حسام عبدالرزاق جسے شامی فوج نے "قیمتی شکار" کا نام دیا دین اسلام کے بارے میں کتنی معلومات رکھتا ہے وہ بجائے خود ایک دلچسپ موضوع ہے۔ ترک فرائض میں "صاحب" کارل مارکس سے بھی زیادہ ملحد واقع ہوئے ہیں۔

اخباری رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ حسام عبدالرزاق سیگریٹ نوشی کا عادی ہے اور اسلامی تعلیمات کے بارے میں "جاھل مطلق" ہے۔

جب اسے پوچھا گیا کہ نماز ادا کرتے ہو؟ تو کہنے لگا "نہیں"۔ روزے کے بارے میں بھی اس کا یہی جواب تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ میں "ان پڑھ ہوں" قرآن پڑھنا نہیں آتا۔

ایک صاحب نے اس پر تبصرہ کیا کہ شامی رجیم ایسے شکار کو مذہبی تنظیم کے بجائے سوشلسٹ پارٹی کا رکن قرار دیتی تو بات زیادہ مناسب تھی۔ ایک اور صاحب نے طنزیہ تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ "کارل مارکس بھی ملحد تھا مگر اس کے باوجود اس کا کچھ نہ کچھ مذہب سے لگائو ضرور رہا ہے لیکن داعشی جنگجو نے توحد ہی کردی۔