.

داعش کی خلافت میں 94 روزہ خوروں کو سزائیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے شام میں اپنے زیرنگیں علاقوں میں رمضان المبارک کے دوران چورانوے افراد کو روزہ خوری پر کڑی سزائیں دی ہیں۔ان سزا یافتوں میں پانچ کم سن لڑکے بھی شامل ہیں۔

شام کی صورت حال پر نظر رکھنے والے برطانیہ میں قائم گروپ شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے جمعرات کو اطلاع دی ہے کہ داعش نے اپنے زیر قبضہ علاقوں میں روزے کے دوران کھانے پینے پر پکڑے گئے ان افراد کو دُرّے مارے ہیں،بازوؤں پر سر کے بل کھڑا کیا ہے یا پھر انھیں سزا دینے کے لیے لوہے کے پنجروں میں بند کیا ہے۔

داعش شام اورعراق میں اپنے زیر قبضہ علاقوں میں اسلامی قوانین کا سخت انداز میں نفاذ کررہی ہے اور اس کے جنگجو معمولی جرائم پر بھی لوگوں کو کڑی سزائیں دیتے ہیں۔مبینہ ملزموں کو سرسری سماعت کے بعد فائرنگ اسکواڈ کے حوالے کردیا جاتا ہے یا پھر ان کے سرقلم کردیے جاتے ہیں یا انھیں پھانسیاں دے دی جاتی ہیں۔

روزے کے دوران صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک مسلمان کچھ نہیں کھاتے پیتے اور وہ مکروہات ومنکرات سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔تاہم نابالغ بچوں پر روزہ فرض نہیں ہے۔اس کے باوجود آبزرویٹری کے مطابق داعش کے جنگجوؤں نے پانچ کم سن لڑکوں کوسزائیں دی ہیں۔

آبزرویٹری نے شام میں موجود اپنے نیٹ ورک کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان تمام روزہ خوروں کو ماہ صیام کے دوران داعش کے زیر قبضہ تین صوبوں الرقہ ،حلب اور دیرالزور میں سزائیں دی گئی ہیں۔تاہم ان کی خوش قسمتی ہے کہ ان کی جانیں بچ گئی ہیں وگرنہ داعش کے سخت گیر جنگجوؤں سے کچھ بعید نہیں تھا۔

آبزرویٹری کے بانی ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے بتایا ہے کہ داعش نے جن پانچ کم سن لڑکوں کو سزائیں دی ہیں،ان کی عمریں تیرہ اور سولہ سال کے درمیان ہیں۔ان میں سے ایک کو لوہے کے پنجرے میں بند کردیا گیا تھا اور باقی چار کو سزا کے طور پر کچھ وقت کے لیے تختہ دار پر لٹکا دیا گیا تھا۔

حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی ویب سائٹ شام نیوز نے اپنے فیس بُک صفحے پر گذشتہ ہفتے ایک لڑکے کی تصویر پوسٹ کی تھی۔اس میں لڑکے کو بازوؤں کے ساتھ لٹکایا گیا تھا اور اس کی گردن کے گرد یہ تحریر لکھ کر لپیٹ دی گئی تھی:''شریعت کی نظر میں کسی جواز کے بغیر روزہ توڑنا''۔