.

داعش کے خلاف جنگ نے دو دل ملا دیے!

سابق امریکی فوجی کی کُرد دوشیزہ سے محبت کے بعد شادی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کہتےہیں 'رشتے آسمان پر بنتے اور زمین پر طے کیے جاتے ہیں' مگر رشتوں کی تقدیر کے لیے کوئی تدبیر بھی کرنا پڑتی ہے۔ شام اور عراق میں سرگرم دولت اسلامیہ عراق وشام "داعش" بھی ایک امریکی اور ایک کرد شامی دوشیزہ کے درمیان رشتہ ازدواج کا موجب بنی ہے۔ اگر داعش کے خلاف جنگ نہ ہوتی تو امریکی گورڈن ماٹسن شام نہ آتا اور اس کی ملاقات روزا یلدیرم المعروف "لانا" کے ساتھ نہ ہوتی اور دونوں ایک دوسرے کے محبت کے اسیر نہ ہوتے اور آج دونوں ایک ساتھ زندگی گذارنے کا سفر شروع نہ کر پاتے۔

داعش کے خلاف جنگ نے امریکا کے سابق فوجی گورڈن ماٹسن کو امریکی ریاست ویسکنسن کے اسٹورٹفانٹ شہر سے ترکی کے شہر استنبول اور وہاں سے شام میں کرد اکثریتی علاقے کوبانی اور کوبانی میں "لانا" تک پہنچا دیا۔

امریکی جنگجو اس وقت کردوں کی حمایت میں لڑنے والی ملیشیا "حمایۃ الشعب" کے ہمراہ لڑ رہا ہے۔ اس کی یلدیرم لانا کے ساتھ محبت کا احوال برطانوی اخبار "ڈٰیلی میل" نے بھی شائع کیا ہے۔

میٹسن کو شام میں آئے اب کئی ماہ ہوچکے ہیں۔ اس دوران اس کی ملاقات ایک مقامی کرد دوشیزہ روزا یلدیرم [لانا] کے ساتھ ہوئی۔ دنوں میں تعارف "فیس بک" سے ہوا اور پھر وہ ایک دوسرے کی محبت کا دم بھرنے لگے اورآخر کار دونوں رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کے لیے سویڈن گئے جہاں انہوں نے حال ہی میں شادی کرلی ہے۔ گورڈن مانسٹن کو شادی کی تقریب میں کرد فوج البیشمیرکہ کے یونیفارم میں دیکھا گیا ہے جب کہ اس کی اہلیہ نے روایتی کرد لباس زیب تن کررکھا ہے۔

مانسٹن کا کہنا ہے کہ جب میں شام کے شہر کوبانی پہنچا تو مجھے کردوں نے بہت عزت دی اورمجھے "سردار" کہنے لگے۔ یہاں آنے کے بعد میرے لیے مشکل کرد زبان کا سمجھنا تھا۔ میرے کچھ کرد ساتھی انگریزی جانتے ہیں۔ تاہم اب میں نے بھی کرد زبان سیکھنا شروع کردی ہے۔

داعش کے خلاف جنگ کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں امریکی جنگجو کا کہنا ہے کہ "میں داعش کی سرکوبی تک یہاں سے واپس جانے والا نہیں ہوں"۔