.

قاہرہ :پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں ،6 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں پولیس اور اسلام پسند مظاہرین کے درمیان نماز عید الفطر کے بعد جھڑپوں میں چھے افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

برطرف صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے حامیوں نے نماز عید الفطر ادا کرنے کے بعد قاہرہ کے مختلف علاقوں میں احتجاجی ریلیاں نکالی تھیں۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے جیزہ میں اہرام مصر کے نزدیک واقع علاقے طلبیہ میں سکیورٹی فورسز پر حملہ کیا تھا۔

مصر کے محکمہ صحت نے ہلاک ہونے والوں کے بارے میں مزید تفصیل نہیں بتائی کہ ان میں مظاہرین اور پولیس اہلکاروں کی تعداد کیا ہے۔واضح رہے کہ ڈاکٹر محمد مرسی کے حامی اور سابق حکمراں جماعت اخوان المسلمون کے کارکنان گاہے گاہے صدر عبدالفتاح السیسی کی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کرتے رہتے ہیں لیکن پولیس ان مظاہرین کو طاقت کے استعمال کے ذریعے منتشر کردیتی ہے اور مظاہرین کو گرفتار کر لیا جاتا ہے۔

مصری حکومت نے ایک متنازعہ قانون کے تحت شہروں میں غیر مجاز جلسے جلوس منعقد کرنے پر پابندی عاید کررکھی ہے لیکن اس کے باوجود اخوان المسلمون کے حامی احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے چھوٹی ،بڑی ریلیاں نکالتے رہتے ہیں۔

مصری فورسز نے جولائی 2013ء میں ڈاکٹر محمد مرسی کی تب مسلح افواج کے سربراہ عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں برطرفی کے بعد سے اخوان المسلمون کے کارکنان اور حامیوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کیا ہے۔اب تک اس جماعت کی تمام اعلیٰ اور ادنیٰ قیادت اور ہزاروں کارکنان کو گرفتار کیا جاچکا ہے اور ان کے خلاف مختلف الزامات کے تحت مقدمات چلائے جارہے ہیں۔اخوان کے مرشد عام محمد بدیع اور ڈاکٹر محمد مرسی سمیت بیشتر قائدین کو مصری عدالتیں سزائے موت کا حکم سنا چکی ہیں۔

ادھر مصر کے غزہ کی پٹی اور اسرائیل کے ساتھ واقع جزیرہ نما علاقے شمالی سیناء میں دولت اسلامی عراق وشام (داعش) سے وابستہ جنگجو سکیورٹی فورسز پر حملے کررہے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ وہ مصری فورسز کی اخوان المسلمون اور دوسری اسلام پسند جماعتوں کے خلاف کارروائیوں کے ردعمل میں یہ حملے کررہے ہیں۔داعش سے وابستہ جنگجو گروپ صوبہ سیناء کے سیناء اور دوسرے علاقوں میں حملوں میں مصر کے سیکڑوں فوجی اور پولیس اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔