.

جوہری معاہدہ ایرانی قوم کی 'توہین' ہے: عالم دین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران اور مغرب کے درمیان تہران کے متنازعہ جوہری پروگرام پر ویانا میں طے پانے والے سمجھوتے کے بارے میں ایران کے قدامت پسند مذہبی حلقوں اور اعتدال پسند قوتوں کا ردعمل جاری ہے۔ ایران کے بیشتر مذہبی پیشواوں نے یا تو کلی طور پر اس معاہدے کو مسترد کر دیا ہے یا اس پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اس کی بعض شرائط کو ایران قوم کی "توہین" افراط وتفریط پر مبنی قرار دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جامع تہران کے امام وخطیب اور سرکردہ عالم دین آیت اللہ محمد علی موحدی کرمانی بھی ان ایرانی علماء میں سے ایک ہیں جنہیں کھل کراس معاہدے کی مخالفت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں مغرب اور تہران کے درمیان طے پائے جوہری معاہدے پر سخت تحفظات ہیں۔ انہی تحفظات کا اظہار مرشد اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای بھی کر چکے ہیں۔

علامہ علی کرمانی نے نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اگرچہ معاہدے کو کلی طور پر مسترد تو نہیں کیا مگر اس کے بعض نکات پر کھل کر تنقید کی۔ ان کا لب ولہجہ بتا رہا تھا کہ ایران کے مذہبی ادارے اورعلماء تہران اور مغرب کے درمیان طے پائے معاہدے پر کتنے برہم ہیں۔ کیونکہ علی کرمانی نے معاہدے کو "توہین آمیز" اور غیر ضروری قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم ایسے مشروط معاہدوں کو قبول نہیں کرے گے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ معاہدے کے تحت طے پانے والی شرائط پرعمل درآمد کیا جاتا ہے یا نہیں۔ اگر تہران پرعاید اقتصادی پابندیاں فوری نہیں اٹھائی جاتیں اور منجمد اثاثے بحال کرنے میں پس وپیش سے کام لیا ہے تو ہم یہ معاہدہ مسترد کرسکتے ہیں۔

آیت اللہ علی کرمانی کا کہنا تھا کہ معاہدے کے تحت ایران سے کیے گئے بعض مطالبات بلا جواز ہیں۔ خاص طور پر مرکزی سینٹری فیوجیز کو محدود کرنے کی شرائط کا مطلب یہ ہوگا کہ ایران پرامن جوہری توانائی کے حصول سے پیچھے ہٹ جائے اور اپنے پاس موجود یورنیم افزودہ کرنا چھوڑ دے۔

مبصرین کے خیال میں آیت اللہ علی خامنہ ای اور آیت اللہ علی کرمانی جیسے بڑے مذہبی رہ نمائوں کی جانب سے جوہری معاہدے پر تنقید نے ایران کے قدامت پسندوں کے لیے معاہدے پرنکتہ چینی کا باب کھلا رکھا ہے۔ آیت اللہ علی خامنہ کا کہنا ہے کہ اگر مرحلہ وار پابندیوں کا خاتمہ نہیں ہوتا تو معاہدہ ختم ہو سکتا ہے اور وہ اس کے ذمہ دار نہیں ہوں گے۔

آیت اللہ علی کرمانی کا کہنا ہے کہ مغرب کی جانب سے ایران کا جوہری پروگرام محدود کرنے کا اور جامع معائنہ کاری کا مطالبہ بلا جواز ہے۔