.

غزہ: مزاحمتی تنظیموں کی ملکیتی گاڑیاں دھماکے سے تباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غزہ سے 'العربیہ' کی نامہ نگار نے عینی شاہدین اور سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اتوار کے روز غزہ کے علاقے میں حماس اور اسلامی جہاد کے عسکری ونگز کے عہدیداروں کی ملکیتی 05 گاڑیاں دھماکے سے تباہ کر دی گئیں۔

فلسطین کی حکمران جماعت اور نام نہاد اسلامی انتہا پسندوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تناو کے تناظر میں میڈیا اس کارروائی کو غیر معمولی اہمیت دے رہا ہے۔غزہ شہر کے مختلف حصوں والے حالیہ دھماکوں پر فلسطینی پولیس نے کسی قسم کا تبصرہ نہیں کیا اور نہ ہی فوری طور پر ان میں ہونے والے جانی اور مالی نقصان کی اطلاع مل سکی ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق تباہ کی جانے والی تین کاریں حماس جبکہ دو اسلامی جہاد کے عسکری ونگ کی ملکیتی تھیں۔

غزہ کی پٹی میں حماس اور چند چھوٹے انتہا پسند گروپوں کے درمیان اقتدار کے حصول کی خاطر داخلی تناو بڑھتا جا رہا ہے۔ بم دھماکوں کے ذریعے سرکاری دفاتر اور بین الاقوامی تنظیموں کے دفاتر کو حالیہ چند دنوں میں نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

غزہ سے اسرائیل پر کی جانے والی حالیہ راکٹ باری کی ذمہ داری بھی داعش سے تعلق رکھنے والے انتہا پسند سلفی گروپ کھلے عام قبول کر چکے ہیں۔

سلفی تنظمیں حماس کے ہاتھوں ہونے والے کریک ڈاون پر ناراض ہیں۔ ناراض انتہا پسند جماعت کا دعوی ہے کہ حالیہ چند ہفتوں کے دوران ان کے ایک سو سے زائد ارکان کو گرفتار کر کے حماس جیل میں ڈال چکی ہے۔