.

داعش کم سن جنگجوئوں کو سرقلم کرنے تربیت دینے لگی

خوفناک مشن میں گڑیا فرضی دشمن کے طور پر استعمال کی جاتی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام اور عراق میں سرگرم تنظیم اسلامک اسٹیٹ "داعش" کی جانب سے کم عمربچوں کو بھی مخالفین کو قتل کرنے کی باضابطہ تربیت دی جاتی ہے۔ انہیں یرغمال بنائے گئے لوگوں کے گلے کاٹںے اور انہیں ہلاک کرنے کے 'گر' سکھائے جاتے ہیں۔

برطانوی اخبار"ڈیلی میل" کی ایک رپورٹ کے مطابق کچھ عرصہ قبل عراق میں "داعش" کے چنگل سے فرار ہونے والے یزیدی قبیلے کے ایک چودہ سالہ لڑکے یحیی نے بتایا کہ داعشی جنگجو انہیں جبر اسلام قبول کرانے کی کوشش کرتے۔ یرغمال بنائے جانے کے بعد ہمیں تنظیم جنگجو کے طورپر شامل کرنے کےلیے جنگی تربیت دیتی جاتی اورہمیں گڑیا کی مدد سے یرغمالیوں کے سرقلم کرنے کے طریقے سکھائے جاتے ۔

یزیدی قبیلے سے تعلق رکھنے والا یحیٰ اپنے بھائی کے ہمراہ گذشتہ مارچ کو عراق میں "داعش" کی چنگل سے فرار میں کامیاب ہو گیا تھا۔ خبر رساں ایجنسی" ایسوسی اییٹڈ پریس" سے بات کرتے ہوئے اس نے بتایا کہ انہیں یرغمال بنائے جانے کے بعد نہایت کٹھن حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے بڑی عمر کے مردوں کو قتل کر دیا گیا۔ خواتین اور بچوں کو لونڈیا اور غلام بنایا گیا اور پھر انہیں جبرا اسلام قبول کرنے یا لونڈی غلام کے طور پر رہنے پر مجبور کیا گیا۔

یحیٰ نے بتایا کہ وہ اپنے بھائی سمیت کئی دوسرے رشتہ داروں کے ہمراہ پانچ ماہ تک "داعش" کے ایک کیمپ میں رہے جہاں گڑیا کا سر قلم کرنے کے ذریعے ہمیں مخالفین کی گردنی اتارنے کے طریقے بتائے جاتے۔ ہمیں بتایا جاتا کہ یرغمالی دشمن پر تلوار کا وار کیسے کرنا ہے۔

اس نے بتایا کہ داعشی جنگجو ہمیں بتاتے کہ آپ نے "کفار" کی گردنیں اڑانی ہیں۔ اگر ہم انہیں قتل نہیں کریں گے تو وہ ہمیں قتل کر دیں گے۔ ہمیں اپنی جانیں بچانے کے لیے بھی دشمن کو موت کے گھاٹ اتارنا ہے۔

خیال رہے کہ کم عمر بچوں کو جنگجوئوں کے طور پر استعمال کرنے کا "داعشی" کلچر شام اور عراق میں عام ہے۔ داعش نے بچوں کے ہاتھوں سے قلم وکتاب چھین کر انہیں جنگ کا ایندھن بنانے کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔ اس سےقبل کم عمربچوں کے ہاتھوں مخالفین کو موت کے گھاٹ اتارے جانے کے کئی واقعات ویڈیوز کی شکل میں منظرعام پرآ چکے ہیں۔

چند ہفتے پیشتر داعش نے شام میں یرغمال بنائے گئے25 سرکاری فوجیوں کے قتل کے لیے بھی کم عمربچوں ہی کو استعمال کیا گیا تھا۔ ذرائع ابلاغ کی جانب سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ شام سے تعلق رکھنے والے 16 سال سے کم عمر کے 1100 بچوں کو داعش کی صفوں میں جنگجوئوں کے طور پر بھرتی کیا گیا ہے۔