.

شامی فوج کو تعداد کی کمی کا سامنا ہے:بشارالاسد کا اعتراف

جنگ کے سیاسی حل کی باتیں بے معنی ہیں،فوج از خود بعض علاقے خالی کرتی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی صدر بشارالاسد نے ملک میں جاری جنگ کے سیاسی حل کی باتوں کو بے معنی قرار دے دیا ہے اور پہلی مرتبہ اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ان کی فوج کو باغیوں کے مقابلے میں افرادی قوت کی کمی کا سامنا ہے۔

بشارالاسد اتوار کو دمشق میں مقامی عمائدین کے اجتماع سے خطاب کررہے تھے اور ان کی یہ تقریر سرکاری ٹیلی ویژن سے نشر کی گئی ہے۔انھوں نے کہا کہ ''فوج اپنی تعداد میں کمی کے پیش نظر مزاحمت کاروں کے خلاف جنگ میں زیادہ اہمیت کے حامل مقامات کے تحفظ کے لیے کم اہمیت والے علاقوں کو خالی کرتی ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''فوج صلاحیت کی حامل ہے،ہر چیز موجود ہے لیکن اس کو انسانی صلاحیت کی کمی کا سامنا ہے''۔انھوں نے کہا کہ ان کی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے لڑنے والے گروپوں کی حمایت میں ریاستوں کی جانب اضافہ ہوا ہے''۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ شام کا ہر انچ قیمتی ہے۔

بشارالاسد کی اس تقریر سے ایک روز قبل ہی ان کی حکومت نے فوجی بھگوڑوں کے لیے عام معافی کا اعلان کیا ہے۔ واضح رہے کہ شامی حکومت کے خلاف سنہ 2011ء کے وسط میں مسلح بغاوت پھوٹ پڑنے کے بعد سے ہزاروں فوجی منحرف ہو کر باغی گروپوں کی صفوں میں شامل ہوچکے ہیں اور اس وقت وہ اسد نواز فورسز کے خلاف لڑرہے ہیں یا پھر وہ بیرون ملک چلے گئے ہیں۔

بشارالاسد نے قبل ازیں سیاسی قیدیوں اور دوسرے مجرموں کے لیے ایسی ہی عام معافیوں کے اعلانات کیے تھے لیکن اب تک شامی جیلوں میں بند ہزاروں سیاسی قیدیوں کو رہا نہیں کیا گیا ہے۔

بشارالاسد کا کہنا تھا کہ ''ان کی حکومت جنگ نہیں چاہتی تھی لیکن جب یہ ہم پر مسلط کردی گئی تو شامی عرب فوج نے ہر کہیں دہشت گردوں کو پسپا کردیا ہے''۔بشارالاسد اپنی حکومت کے خلاف لڑنے والے تمام باغی گروپوں کو دہشت گرد قرار دیتے چلے آرہے ہیں۔

امریکا نے حال ہی میں شامی فوج کے مقابل جنگ میں اتارنے کے لیے اعتدال پسند باغیوں کی عسکری تربیت کا آغاز کیا ہے لیکن برسرزمین اس وقت اسلامی انتہا پسند جنگجو گروپ زیادہ موثر ہیں اور وہی شامی فوج کا ڈٹ کر مقابلہ کررہے ہیں اور اس کو شکست سے بھی دوچار کررہے ہیں۔ان میں داعش اور شام میں القاعدہ سے وابستہ جنگجو گروپ النصرۃ محاذ نمایاں ہیں۔داعش نے شام کے ایک تہائی علاقے پر قبضہ کرکے وہاں اپنی خلافت قائم کررکھی ہے۔