.

رفیق حریری کا قاتل شام کے محاذ جنگ پر موجود

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے قریبی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ سابق لبنانی وزیراعظم رفیق الحریری کے قتل میں مبینہ طور پر ملوث قراردیا گیا حزب اللہ کا جنگجو ان دنوں شام کے محاذ جنگ میں صدر بشار الاسد کی وفاداری میں لڑ رہا ہے۔

حزب اللہ کے قریبی روزنامہ "الاخبار" نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ حزب اللہ کا اہم کمانڈر اور سابق وزیراعظم رفیق حریری کا قاتل مصطفیٰ بدر الدین پچھلے چار سال سے شام کے محاذ جنگ پر موجود ہے اور صدر اسد کے دفاع میں لڑائیوں میں حصہ لے رہا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بدرالدین شامی فوج کے ہمراہ لڑنے والے گروپوں کی قیادت بھی کررہا ہے اور اس کا شام میں جاری لڑائی میں اہم کردار رہا ہے۔ کئی مقامات پراس نے جنگجو گروپوں کی قیادت کرتے ہوئے بشارالاسد کی وفادار سرکاری فوج کی باغیوں کے خلاف بھرپور مدد کی ہے۔ اسے یمن میں تکفیری گروپوں کے خلاف کارروائی میں اہم ترین معاون خیال جاتا ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ مصطفیٰ بدر الدین شام سے فتح مند ہو کر لوٹنا چاہتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ یا تو محاذ جنگ شہید ہوگا یا فتح کے بعد وطن واپس آئے گا۔