.

شامی فوج اورکرد ملیشیا سے لڑائی کے بعد داعش الحسکہ سے پسپا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی فوج اورکرد جنگجوؤں نے دولت اسلامیہ عراق وشام (داعش) کو ایک ماہ کی لڑائی کے بعد شمال مشرقی شہر الحسکہ سے پسپا کردیا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے اطلاع دی ہے کہ شامی فوج اور کرد ملیشیا نے شدید لڑائی کے بعد داعش کے جنگجوؤں کو الحسکہ کے علاقے ظہور سے پسپائی پر مجبور کردیا ہے اور اب وہ شہر کے جنوبی علاقے کی جانب پیچھے ہٹ گئے ہیں۔

الحسکہ پر اس وقت کرد جنگجوؤں اور صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کا مشترکہ کنٹرول ہے۔گذشتہ ماہ داعش کے جنگجوؤں نے اس شہر پر یلغار کی تھی اور ان کی شہر میں دراندازی کے بعد سے ان کی کرد ملیشیا اور سرکاری فوج کے ساتھ لڑائی جاری تھی۔

گذشتہ دو روز میں کرد ملیشیا اور سرکاری فوج کی داعش کے مقابلے میں یہ دوسری بڑی کامیابی ہے۔اس سے قبل سوموار کو کرد ملیشیا پیپلز پروٹیکشن یونٹس (وائی پی جی) نے امریکا کی قیادت میں اتحاد کے فضائی حملوں کی مدد سے شام کے شمالی قصبے سیرین پر قبضہ کر لیا تھا اور وہاں سے بھی داعش کے جنگجوؤں کو کرد ملیشیا کے ہاتھوں ہزیمت سے دوچار ہونے کے بعد پسپا ہونا پڑا تھا۔

دریائے فرات کے کنارے واقع قصبے سیرین میں داعش کے ٹھکانوں پر امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک کے لڑاکا طیاروں نے تباہ کن فضائی حملے کیے تھے جس کے بعد کرد ملیشیا کو پیش قدمی میں مدد ملی ہے۔یہ قصبہ ترکی کی سرحد کے ساتھ جنگ زدہ قصبے کوبانی (عین العرب) کے نزدیک واقع ہے اور یہیں سے داعش کے جنگجو کوبانی پر حالیہ ہفتوں کے دوران حملہ آور ہوتے رہے ہیں۔