.

شام کے لئے تیسرا نیا امریکی ایلچی نامزد

نئے ایلچی کہنہ مشق سفارتکار اور عربی زبان پر عبور رکھتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے شامی تنازع کا سیاسی حل تلاش کرنے کی غرض سے جنگ زدہ عرب ریاست کے لئے اپنا نیا ایلچی مقرر کیا ہے۔ چار برس قبل شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے امریکا نے تیسری مرتبہ اس عہدے پر فائز عہدیدار کو تبدیل کیا ہے۔

عربی زبان پر دسترس رکھنے والے مسٹر مائیکل ریٹنے یروشلم میں امریکا کے قونصل جنرل اور عراق، لبنان، مراکش اور قطر میں سفارتکار کے طور پر بھی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ وہ مسٹر ڈینئل روبینٹسن کی جگہ لیں گے۔

مسٹر روبینٹسن کو اب تیونس میں امریکا کا سفیر مقرر کیا گیا ہے، ان سے پہلے مسٹر رابرٹ فورڈ شام کے لئے امریکا کے خصوصی ایلچی کے طور پر خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔

سنہ 2014ء میں مستعفی ہونے والے مسٹر فورڈ نے شامی اپوزیشن کے منتشر گروپوں کے نام نہاد 'ماڈریٹ' عناصر کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش کی تھی۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے نئے ایلچی مسٹر ریٹنے پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے پیش رو کے کام کو آگے بڑھائیں تاکہ شام کے تباہ کن اور پیچیدہ تنازع کے بارے میں امریکی ردعمل کے خدوخال نمایاں ہو سکیں۔

جان کیری کا مزید کہنا تھا کہ ہم بشار الاسد کے علاوہ بحران کے مذاکرات کے ذریعے سیاسی حل تلاش کرتے رہے ہیں۔ ہم نے دہشت گردی کے خطرے اور اعتدال پسند اپوزیشن کی حمایت کو بطور اصول اپنایا تاکہ انسانی تباہی کے اس معاملے سے شام کے ہمسایوں کو بچایا جا سکے۔

شام کے لئے نئے امریکی سفارتکار مسٹر ریٹنے جلد ہی شامی حکام سے مذاکرات کے لئے روانہ ہوں گے تاکہ تشدد کو ختم کرواتے ہوئے وہ تمام شامیوں کے لئے آزاد اور باوقار مستقبل کو یقینی بنا سکیں۔