.

داعش پر حملے: مصر شام کی علاقائی خود مختاری کا حامی

وزارتِ خارجہ نے ترکی کا نام لیے بغیر اس کے شام میں فضائی حملوں کی مخالفت کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر نے شام کے شمالی علاقے میں سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے خلاف ترکی کے فضائی حملوں کی بہ انداز دیگر مخالفت کردی ہے اور اس نے کہا ہے کہ شام کی علاقائی خود مختاری کا احترام کیا جانا چاہیے۔

مصر کی وزارت خارجہ نے بدھ کو جاری کردہ ایک بیان میں شام میں دہشت گرد گروپوں کے خلاف جنگ کی حمایت کی ہے لیکن اس کا کہنا ہے کہ ''یہ لڑائی بین الاقوامی قانون اور فیصلوں کی روشنی میں شام کی علاقائی خودمختاری اور اتحاد کا احترام کرتے ہوئے لڑی جانی چاہیے''۔

ترکی نے گذشتہ ہفتے شام کے شمالی علاقے میں داعش کے خلاف فضائی حملوں کا آغاز کیا ہے اور اس نے امریکا کی قیادت میں اتحاد کو اپنے فوجی اڈے بھی مہیا کردیے ہیں جہاں سے ان کے لڑاکا طیارے اڑ کر اب شام اور عراق میں داعش اور دوسرے سخت گیر جنگجو گروپوں کے خلاف بمباری کریں گے۔

امریکا اور ترکی اس وقت شام کے شمالی علاقے میں داعش سے پاک محفوظ زون کے قیام کے لیے بھی بات چیت کررہے ہیں۔ایک امریکی عہدے دار کے بہ قول دونوں ملکوں نے اس محفوظ علاقے کے قیام سے اتفاق کیا ہے۔

ترکی کے لڑاکا طیاروں نے شمالی عراق میں بھی علاحدگی پسند گروپ کردستان ورکرز پارٹی کے جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔داعش اور کردوں کے خلاف ترکی نے یہ نئی جنگی مہم ان کے جنگجوؤں کے گذشتہ ہفتے عشرے کے دوران دہشت گردی کے حملوں کے ردعمل میں شروع کی ہے۔

مصرکی وزارت خارجہ کے بیان میں ترکی کا نام نہیں لیا گیا اور نہ اس کی وضاحت کی گئی ہے۔الاہرام مرکز برائے سیاسیات اور تزویراتی مطالعات کے سیاسی تجزیہ کار حسن ابو طالب کا کہنا ہے کہ ''مصر کا پیغام ترکی کے یک طرفہ اقدام کی مذمت اور اس کا استرداد ہے''۔

مصری صدر عبدالفتاح السیسی ماضی میں شام کے اتحاد کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زوردے چکے ہیں۔امریکا سمیت مختلف ممالک شام میں صدر بشارالاسد کے اقتدار کے خلاف جنگ آزما باغی گروپوں کی حمایت کررہے ہیں لیکن جہادی گروپوں کے شام میں دَر آنے کے بعد ان کے لیے تمام باغی گروپوں کی حمایت جاری رکھنا ممکن نہیں رہا تھا اور وہ داعش اور القاعدہ سے وابستہ سخت گیر گروپ النصرۃ محاذ کے جنگجوؤں کے خلاف اب فضائی حملے کررہے ہیں جس سے بشارالاسد کی حکومت ہی کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔

مگر اس کے باوجود شامی صدر کی وفادار سکیورٹی فورسز پورے ملک پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے یا اپنے زیرقبضہ علاقوں میں عمل داری قائم رکھنے کے قابل نہیں رہی ہیں۔اس وقت شام کے بیشتر مشرقی علاقوں پر داعش کا کنٹرول ہے،اس کے متحارب النصرۃ محاذ کی قیادت میں اتحاد نے شمال مغربی علاقوں میں شامی فوج کو شکست دینے کے بعد اپنی عمل داری قائم کررکھی ہے،قوم پرست باغی جنوب میں بروئے کار ہیں اور شمالی علاقوں میں کرد باغیوں کا کنٹرول ہے۔ان گروپوں کی بیک وقت آپس میں بھی لڑائیاں جاری ہیں اور وہ شامی فوج کے خلاف بھی محاذ آراء ہیں۔