.

اسرائیلی فائرنگ سے زخمی فلسطینی نوجوان شہید

چوبیس گھنٹے میں شہداء کی تعداد تین ہو گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں جمعہ کے روز ایک معصوم فلسطینی بچے کو یہودی آباد کاروں کے ہاتھوں زندہ جلائے جانے کے واقعے کے خلاف احتجاج کے دوران اسرائیلی فوج کی گولی سے زخمی ہونے والا فلسطینی نوجوان چل بسا، جس کے بعد یہودی آباد کاروں اور اسرائیلی فوج کے تشدد کے نتیجے میں شہداء کی تعداد تین ہو گئی ہے۔

فلسطینی میڈیکل ذرائع نے میڈیا کو بتایا کہ جمعہ کے روز مغربی کنارے کے شہر رام اللہ کے مضافات میں ایک مظاہرے کے دوران اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا نوجوان 18 سالہ لیث الخالدی اسپتال میں دم توڑ گیا۔

الخالدی جمعہ کے روز اس وقت شدید زخمی ہوگیا تھا کہ بیرزیت کے مقام پر فلسطینی شہری ایک شیر خوار فلسطینی بچے کی یہودی آباد کاروں کے ہاتھوں لگائی گئی آگ میں شہادت پر احتجاج کر رہے تھے۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے قابض افواج نے نہتے شہریوں پر براہ راست فائرنگ کی جس سے لیث الخالدی سمیت کئی افراد زخمی ہو گئے تھے۔

یاد رہے کہ جمعہ کو علی الصباح مغربی کنارے کے شمالی شہر نابلس میں کفر دوما کے مقام پر یہودی آباد کاروں نے ایک مکان کو پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی تھی جس سے گھر میں موجود ایک اٹھارہ سالہ بچہ علی سعد دوابشہ جل کر شہید، اس کے والدین اور ایک چار سالہ بھائی بری طرح جھلس گئے تھے۔ اس واقعے نے اسرائیلی مظالم کا شکار فلسطینیوں میں سخت نفرت اور غم وغصے کی لہر پیدا کی تھی اور فلسطین کے طول وعرض میں اس درندگی کےخلاف احتجاجی مظاہرے آج بھی جاری رہے۔