.

فلسطینی بچے کی شہادت پر غرب اردن میدان جنگ بن گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر نابلس میں کفر دوما کے مقام پر انتہا پسند یہودیوں کے ایک مکان کو آگ لگائے جانے کے واقعے کے نتیجے میں شیر خوار بچے کی شہادت کے بعد پورے فلسطین میں سخت غم وغصے کی لہر دوڑ گئی اور لوگ اسرائیل کے خلاف نعرے بازے کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق شہید کی نماز جنازہ میں بھی ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ انہوں نے ہاتھوں میں بینر اور کبتے اٹھا رکھے تھے جن پر ننھے معصوم بچے کے وحشیانہ قتل کا انتقام لینے کے نعرے درج تھے۔

اطلاعات کے مطابق مکان میں جھلس کر زخمی ہونے والے بچے کے والدین اور ایک بھائی کو اسپتالوں میں داخل کیا گیا ہے جہاں ان کی حالت بدستور تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ بچے کی والدہ کا جسم 90 فی صد جھلس چکا ہے، والد کا 80 اور چار سالہ بیٹے احمد کا 60 فی صد جسم جل گیا ہے۔ وہ مسلسل بے ہوش ہیں اور ڈاکٹر مصنوعی تنفس کی مدد سے ان کی زندگیاں بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ انتہا پسند یہودیوں نے جمعہ کے روز مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر نابلس کے نواح میں واقع ایک گاؤں کفر دوما میں ایک فلسطینی خاندان کے مکان کو آگ لگا دی تھی جس کے نتیجے میں اٹھارہ ماہ کا بچہ زندہ جل کر شہید ہو گیا ہے۔ آتشزدگی کے واقعے میں بچے کے والدین اور ایک چار سالہ بھائی بھی بری طرح جھلس گئے ہیں۔

تنظیم آزادی فلسطین (پی ایل او) نے اسرائیلی حکومت کو اس واقعے کا مکمل طور پر ذمے دار قرار دیا ہے۔ پی ایل او کے سرکردہ عہدے دار صائب عریقات نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ہم اسرائیلی حکومت کو کم سن بچے علی سعد دوابشہ کے سفاکانہ قتل کا مکمل ذمے دار قرار دیتے ہیں۔یہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے یہودی آباد کاروں کی دہشت گردی کو حاصل استثنیٰ کا براہ راست نتیجہ ہے''۔

اسرائیلی پولیس کی خاتون ترجمان لوبا سامری نے کہا ہے کہ ''انتہا پسند اسرائیلیوں نے نذرآتش کیے گئے مکان کی دیواروں پر ماضی کی طرح ''پرائس ٹیگ'' بدلہ کا نعرہ لکھ دیا تھا۔ یہ قوم پرستی کے محرکات پر مبنی حملہ ہے''۔

انتہا پسند اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اس حملے کو ہر اعتبار سے دہشت گردی قرار دیا ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع موشے یعلون نے بھی ایک بیان میں مکان کو نذر آتش کیے جانے اور فلسطینی شیر خوار بچے کے قتل کو دہشت گردی کی کارروائی قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم دہشت گردوں کو فلسطینیوں کی جانیں لینے کی اجازت نہیں دیں گے۔