.

"پی کے کے" ترک مخالف محاذ آرائی ترک کرے: بارزانی

صوبہ کردستان کا فریقین سے فوری جنگ بندی کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے نیم خود مختار کرد اکثریتی صوبہ کردستان کے وزیراعظم مسعود بارزانی نے ترکی کی علاحدگی پسند کرد ورکرز پارٹی"پی کے کے" کو ترکی کے خلاف جنگ سے گریز کا مشورہ دیا ہے۔

نیوزایجنسی" کرد پریس" کے رپورٹ کے مطابق مسعود بارزانی نے "پی کے کے" سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عراقی کردستان کی وجہ سے انقرہ کے ساتھ محاذ آرائی سے گریز کرے کیونکہ ترکی کے خلاف جنگ سے گریز خود کردوں کے مفاد میں ہے۔

مسٹر بارزانی کا کہنا ہے کہ کردستان ورکرز پارٹی نے ترکی کے خلاف محاذ آرائی کا راستہ اپنائے رکھا تو اس کے نتیجے میں ترکی عراقی کردستان میں "پی کے کے" کے ٹھکانوں کو نشانہ بنائے گا۔ ایسی صورت میں بمباری کے باعث عام شہریوں کےغیر معمولی جانی نقصان کا اندیشہ ہے۔

ادھر کردستان وزیر اعلیٰ ہائوس کی جانب سے جاری ایک بیان میں ترکی سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ شمالی عراق میں کردوں کے خلاف فضائی کارروائی روک دے کیونکہ اس میں عام شہریوں کا جانی نقصان ہو رہا ہے۔

خیال رہے کہ ترکی کے جنگی طیاروں نے ہفتے کے روز عراق اور ترکی کے کرد اکثریتی علاقوں پر بمباری کی تھی جس کے نتیجے میں کم سے کم نو عام شہری مارے گئے ہیں۔

عراقی کردستان کی حکومت کے علاوہ دانشوروں اور جنگی ماہرین نے بھی ترک حکومت اور کردستان ورکرز پارٹی کو لڑائی ختم کرتے ہوئے سیز فائر کا مطالبہ کیا ہے۔ کردستان حکومت کے تعلقات عامہ کے سربراہ فلاح مصطفیٰ ابو بکر کا کہنا ہے کہ ترکی کی جانب سے شمالی عراق میں "پی کے کے" کے ٹھکانوں پر بمباری کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔ اس لیے ہم فریقین سے فوری طور جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

کرد حکومت کے عہدیدار نے صحافیوں کو بتایا کہ ہم دو اطراف سے محاصرے میں آ چکے ہیں۔ اس لیے ورکرز پارٹی اور ترکی دونوں سے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

دوسری جانب ترکی کرد جنگجوئوں کے خلاف اپنی فوجی کارروائی کا مسلسل دفاع کر رہا ہے۔ ترک حکومت کا کہنا ہے کہ پچھلے ایک ہفتے کے دوران شمالی عراق میں جن کردوں کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا ہے وہ ترکی میں پولیس اور سیکیورٹی اداروں پر قاتلانہ حملوں اور بم دھماکوں میں ملوث تھے۔

ادھر امریکا نے بھی محتاط انداز میں اپنے ردعمل میں ترک حکومت کی فوجی کارراوئی کی حمایت کی ہے۔ پچھلے ہفتے امریکی وزیر دفاع ایشٹن کارٹر نے اپنے دورہ کردستان کے دوران کہا تھا کہ ان کا ملک کردستان ورکرز پارٹی کو ایک دہشت گرد تنظیم سمجھتا ہے۔ اس لیے ترکی کا کردوں کے خلاف آپریشن حق بجانب ہے تاہم انہوں نے کردستان کی فوج البیشمرکہ کو ایک مثالی فوج قرار دیتے ہوئے اس کے ساتھ ہرممکن تعاون کا یقین دلایا۔