.

شام: داعش کا تزویراتی اہمیت کے حامل وسطی قصبے پر قبضہ

القریتین پر قبضے کے لیے لڑائی میں 37 شامی فوجی اور داعش کے 23 جنگجو ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سخت گیر جنگجو گروپ دولتِ اسلامیہ عراق وشام (داعش) نے شامی صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے ساتھ خونریز جھڑپوں کے بعد وسطی صوبے حمص میں واقع تزویراتی اہمیت کے حامل ایک قصبے پر قبضہ کر لیا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے جمعرات کو اطلاع دی ہے کہ جنگجو گروپ نے بدھ کی صبح حمص شہر سے جنوب مشرق کی جانب واقع پر قصبے القریتین پر قبضے کے لیے اپنے حملے کا آغاز کیا تھا اور اس کے تین خودکش بمباروں نے شامی فوج کے تین چیک پوائنٹس کو اپنے حملوں میں نشانہ بنایا تھا۔

آبزرویٹری کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے بتایا ہے کہ خونریز لڑائی میں سینتیس فوجی اور ان کے اتحادی جنگجو ہلاک ہوئے ہیں جبکہ داعش کے تئیس جنگجو کھیت رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ یہ قصبہ تزویراتی لحاظ سے بڑی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ قدیم شہر تدمر کو وادی قلمون سے ملانے والی شاہراہ پر واقع ہے۔

داعش نے مئی سے تدمر پر قبضہ کررکھا ہے جبکہ قلمون کا پہاڑی علاقہ صوبہ دمشق میں واقع ہے اور اب وہ القریتین پر قبضے کے بعد حمص اور قلمون کے درمیان مشرق میں واقع اپنے زیر قبضہ تمام علاقے پر اپنا کنٹرول مزید مضبوط بنا سکیں گے اور انھیں ان دونوں علاقوں کے درمیان جنگجوؤں کی آمد ورفت اور کمک کی حمل ونقل میں بھی آسانی رہے گی۔