.

مصر: نہر سویز کے توسیعی منصوبے کا افتتاح

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے جمعرات کو ایک رنگا رنگ تقریب میں نہر سویز کے توسیعی منصوبے کی تکمیل کے بعد اس کا افتتاح کردیا ہے۔

توسیعی منصوبے کی افتتاحی تقریب نہر سویز کے کنارے واقع شہر اسماعیلیہ میں منعقد کی گئی۔اس موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔تقریب میں فرانسیسی صدر فرانسو اولاند ،اردن کے شاہ عبداللہ دوم ،بحرین کے بادشاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ ،فلسطینی صدر محمود عباس ،امیرکویت شیخ صباح الاحمد الصباح اور یونانی وزیراعظم الیکسیس سیپراس سمیت متعدد غیرملکی شخصیات شریک تھیں۔

نہرسویز کے توسیعی منصوبے پر ساڑھے آٹھ ارب ڈالرز لاگت آئی ہے۔منصوبے کی تکمیل کو مصر کے سرکاری میڈیا نے ایک تاریخی کامیابی قرار دیا ہے اور وہ صدر عبدالفتاح السیسی کو ایک قومی ہیرو کے طور پر پیش کر رہا ہے۔

اس توسیعی منصوبے کے تحت ایک سو ترانوے کلومیٹر طویل نہر سویز کے بہتّر کلومیٹر حصے کو گہرا کیا گیا ہے اور اس کے وسط میں ایک متوازی آبی گذرگاہ بنا دی گئی ہے۔اس سے دو رویہ آبی ٹریفک کو رواں دواں رکھنے میں مدد ملے گی۔نہر سویز کی گہرائی چوبیس میٹر (اناسی فٹ ) ہوجانے کے بعد اب چھیاسٹھ فٹ گہرائی والے بحری جہاز بیک وقت دو آبی راستوں میں سفر کرسکیں گے۔

ابتدائی اندازے کے مطابق اس منصوبے نے تین سال میں مکمل ہونا تھا لیکن صدر عبدالفتاح السیسی نے اس کو صرف ایک سال میں مکمل کرنے کا حکم دیا تھا۔مصری حکومت کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے لیے تمام رقوم مصری سرمایہ کاروں نے مہیا کی ہیں۔اس منصوبے کی تکمل سے نہرسویز سے حاصل ہونے والی سالانہ آمدن دُگنا ہو جائے گی اور یہ سنہ 2023ء تک تیرہ ارب بیس کروڑ ڈالرز تک پہنچ جائے گی۔

تاہم ماہرین معیشت اور جہازرانوں نے ان اعداد وشمار کو مبالغہ آمیز قرار دیا ہے اور اس منصوبے کی قدر کے حوالے سے سوال اٹھائے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ مصری حکومت نہرسویز میں جس آبی ٹریفک کے اضافے کی توقع لگا بیٹھی ہے،اس کا انحصار عالمی تجارت میں نمایاں اضافے پر ہے اور اس میں تو فی الوقت اچانک غیر معمولی اضافہ ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔

یادرہے کہ انسان کی بنائی ہوئی اس آبی گذرگاہ کے ذریعے بحراحمر اور بحرمتوسطہ (بحرالروم) کو آپس میں ملایا گیا تھا۔اس کا سنہ 1869ء میں افتتاح کیا گیا تھا۔اس کو مصر کا قومی فخر قرار دیا جاتا رہا ہے اور مصر کے حکومت نواز میڈیا نے عبدالفتاح السیسی کو سابق صدر مرحوم جمال عبدالناصر کے ہم پلّہ قومی لیڈر قرار دیا ہے۔جمال عبدالناصر نے سنہ 1956ء میں اپنے دورِ حکومت میں نہر سویز کو قومیا لیا تھا۔ان کے اس اقدام کو نوآبادیاتی دور سے ناتا توڑنے کے مترادف قراردیا گیا تھا۔