.

مصر: سربراہ القاعدہ کے بھائی کے خلاف عدالتی فیصلہ مؤخر

عدالت نے 10 شریک ملزمان کو دہشت گرد گروپ تشکیل دینے پر سزائے موت سنا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں ایک عدالت نے القاعدہ کے سربراہ ڈاکٹرایمن الظواہری کے بھائی محمد الظواہری کے خلاف مقدمے کا فیصلہ ایک مرتبہ پھر مؤخر کردیا ہے جبکہ ان کے شریک دس ملزمان کو ایک دہشت گرد گروپ تشکیل دینے کے الزام میں قصور وار قرار دے کر سزائے موت کا حکم دیا ہے۔

عدالتی ذرائع کے مطابق محمد الظواہری کے خلاف فیصلہ 27 ستمبر تک مؤخر کیا گیا ہے۔انھیں اگست 2013ء میں ملک کے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی حکومت کی برطرفی کے بعد ان کے حامیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔

محمد الظواہری اور سڑسٹھ مدعاعلیہان کے خلاف القاعدہ سے وابستہ ایک دہشت گرد گروپ تشکیل دینے اور سرکاری تنصیبات ،سکیورٹی فورسز اور مصر کی عیسائی اقلیت پر حملوں کی سازش کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی ہے مگر ان کے وکیل نے ان تمام الزامات کی صحت سے انکار کیا ہے۔

ایک عدالتی عہدے دار کے مطابق آج عدالت نے ان میں سے دس مدعاعلیہان کو ایک دہشت گرد گروپ میں شمولیت اختیار کرنے ،پولیس اور فوجی افسروں پر حملوں کی شہ دینے اور پولیس اور سرکاری عمارتوں پر حملوں کے الزامات میں قصور وار قرار دے کر سزائے موت سنائی ہے۔عدالت کے جج نے یہ فیصلہ مشاورت کے لیے مصر کے مفتیِ اعظم کو بھیج دیا ہے۔

القاعدہ کے سربراہ کے بھائی پر الگ سے دہشت گرد گروہ تشکیل دینے ،اس کے ارکان کو مسلح کرنے،ان کے لیے دھماکا خیز مواد کی تیاری اور اس کو استعمال کرنے کی تربیت دینے کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی ہے۔اس گروپ کے ارکان کو مبینہ طور پر قاہرہ کے علاقوں میں خفیہ مقامات اور اس کے شمال میں واقع نیل ڈیلٹا میں عسکری تربیت دی گئی تھی۔

محمد الظواہری سمیت باون مدعاعلیہان اس وقت زیر حراست ہیں،تیرہ مفرور ہیں اور ان کے خلاف ان کی عدم موجودگی میں مقدمہ چلایا جارہا ہے جبکہ تین وفات پا چکے ہیں۔ان میں ایک دوران حراست ہی دم توڑ گیا ہے۔ان کے خلاف یکم اگست کو فیصلہ سنایا جانا تھا لیکن اس کو مزید غور وخوض کے لیے مؤخر کردیا گیا تھا۔